طویل اور تھکا دینے والے دن یا سخت ورزش کے بعد اکثر لوگ نہا کر گیلے بالوں کے ساتھ ہی سونے چلے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک معمولی عادت محسوس ہوتی ہے لیکن ماہرین کے مطابق یہ عادت بالوں اور سر کی جلد (اسکیلپ) کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
بالوں کی قدرتی حفاظتی تہہ متاثر ہوتی ہے

کلیولینڈ کلینک کے مطابق نمی بالوں اور سر کی جلد کی قدرتی حفاظتی تہہ کو متاثر کرتی ہے جس سے خارش، جلن اور حساسیت بڑھ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بالوں کے ریشے کمزور ہو جاتے ہیں اور انہیں نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
سونے سے پہلے بال اچھی طرح خشک کریں

ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے سے پہلے بال مکمل طور پر خشک کرنا ان کی صحت برقرار رکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔ ان کے مطابق بال خشک کرنے کی سادہ اور باقاعدہ عادت اپنانا، گیلے بالوں کے ساتھ سونے سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہے۔
گیلے بال زیادہ نازک ہوتے ہیں

یونیورسٹی آف یوٹاہ ہیلتھ کے ماہر امراضِ جلد ڈاکٹر ٹموتھی شمٹ کے مطابق گیلے بال خشک بالوں کے مقابلے میں زیادہ نازک ہوتے ہیں اس لیے ان کے ٹوٹنے کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔
“ہائیگرل فیٹیگ” کیا ہے؟

ڈاکٹر شمٹ کے مطابق پانی بالوں میں موجود پروٹین کی ساخت کو کمزور کر دیتا ہے جس سے بال زیادہ لچکدارہونے کے ساتھ کمزور ہوجاتے ہیں اور آسانی سے ٹوٹ جاتے ہیں اس کیفیت کو ہائیگرل فیٹیگ کہا جاتا ہے۔
بالوں کی یہ حالت اس وقت جنم لیتی ہے جب بال بار بار نمی جذب کرکے پھولتے اور پھر خشک ہو کر سکڑتے ہیں۔ اس عمل سے بالوں کی اندرونی ساخت کمزور ہو جاتی ہے اور ان میں نہایت باریک دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔
اسکیلپ پر بیکٹیریا اور فنگس کی افزائش

فلوریڈا میں پارک لینڈ ڈرماٹولوجی اینڈ کاسمیٹک سرجری کی بانی اور ماہر امراضِ جلد ڈاکٹر الیکسس اسٹیفنز کے مطابق نم اسکیلپ بیکٹیریا اور فنگس کی افزائش کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتی ہے جس سے سر کی جلد کے مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
خشکی اور جلد کی سوزش

سر کی جلد پر قدرتی طور پر موجود مالاسیزیا نامی فنگس بعض حالات میں حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ یہ بالوں کے فولیکلز سے پیدا ہونے والی چکنائی (سیبم) کو توڑ کر اولیک ایسڈ بناتی ہے جو بہت سے افراد میں جلد کے خلیات کی تیز رفتار تبدیلی کا باعث بنتی جس کے نتیجے میں خشکی (ڈینڈرف) اور جلد کی سوزش پیدا ہو سکتی ہے۔
تکیے کی رگڑ بھی نقصان دہ
نم بالوں اور تکیے کے غلاف کے درمیان رگڑ بھی بالوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس سے بال دو منہ ہو سکتے ہیں زیادہ ٹوٹتے ہیں اور ان کی چمک اور ساخت متاثر ہوتی ہے۔
وقت کے ساتھ نقصان میں اضافہ
ماہرین کے مطابق یہ عادت نیند کے دوران بالوں کی قدرتی مرمت کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہے جس کے باعث وقت کے ساتھ نقصان بڑھتا جاتا ہے۔
گیلے بال باندھ کر سونا زیادہ خطرناک

اگر گیلے بالوں کو پونی ٹیل یا چوٹی کی شکل میں باندھ کر سویا جائے تو بالوں کے ریشوں اور اسکیلپ پر اضافی دباؤ پڑتا ہے جس سے بال مزید کمزور ہو سکتے ہیں۔
گرمی اور نمی کا امتزاج
گرمیوں میں گیلے بالوں کے ساتھ سونا خوشگوار محسوس ہو سکتا ہے لیکن ماہرین اس کی سفارش نہیں کرتے کیونکہ گرمی اور نمی کا امتزاج فنگس کی افزائش کو تیز کر دیتا ہے۔
کیا گیلے بالوں سے گنج پن ہوتا ہے؟

ماہر ڈاکٹر انتونیو برگوس کے مطابق گیلے بالوں کے باعث ہونے والا نقصان براہِ راست گنج پن کا سبب نہیں بنتا تاہم یہ بالوں کے فولیکلز کو کمزور کر سکتا ہے اور اگر فنگس کی وجہ سے جلد کی دائمی سوزش پیدا ہو جائے تو بالوں کے جھڑنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
کیا گیلے بالوں سے نزلہ ہوتا ہے؟

یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ گیلے بالوں کے ساتھ سونے سے نزلہ یا وائرل بیماری ہو جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق گیلے بال جسم کا درجہ حرارت اتنا کم نہیں کرتے کہ بیماری پیدا ہو، تاہم اس سے بعض افراد کو سر درد یا اسکیلپ میں جلن کی شکایت ہو سکتی ہے۔
احتیاطی تدابیر
بال خشک کرنے کے لیے مائیکرو فائبر تولیہ استعمال کریں، کیونکہ یہ بالوں کو رگڑے بغیر اضافی پانی جذب کر لیتا ہے۔
سونے سے تقریباً دو گھنٹے پہلے بال خشک کرنے کا عمل شروع کریں تاکہ وہ قدرتی طور پر بھی اچھی طرح خشک ہو جائیں۔
بال خشک کرتے وقت سر کو ہلکا سا حرکت دیں تاکہ ہوا کا گزر بہتر ہو اور نمی جلد ختم ہو جائے۔
ساٹن یا ریشم کے تکیے کے غلاف بہتر ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر بالوں کو ٹوٹنے، الجھنے یا بے ترتیب ہونے سے بچانا ہو، خصوصاً گھنگریالے بالوں کی صورت میں، تو روئی (کاٹن) کے بجائے ساٹن یا ریشم کے تکیے کے غلاف استعمال کرنا زیادہ مفید ہے۔
چوڑے دانتوں والی کنگھی استعمال کریں
سونے سے پہلے چوڑے دانتوں والی کنگھی سے آہستگی کے ساتھ بال سنوارنا بھی فائدہ مند ہے۔ اس سے بالوں میں ہوا کا گزر بہتر ہوتا ہے، اضافی نمی کم ہوتی ہے اور بال غیر ضروری کھنچاؤ سے محفوظ رہتے ہیں۔




















