خطرناک اور جان لیوا ایبولا وائرس کے خلاف بڑی کامیابی یوگنڈا نے 2026 کی وبا کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے خود کو ایبولا فری قرار دے دیا۔
یوگنڈا کے وزیر صحت کرس بیاریومونسی نے دارالحکومت کمپالا میں اعلان کیا کہ ملک میں ایبولا کی وبا باضابطہ طور پر ختم ہوچکی ہے اور اب یوگنڈا ایبولا سے پاک ہے۔
حکام کے مطابق آخری مریض کے قرنطینہ مرکز سے صحت یاب ہوکر گھر جانے کے بعد ضروری 42 روزہ نگرانی کا مرحلہ مکمل کیا گیا، جس کے دوران ایبولا کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) نے مئی میں یوگنڈا میں پھیلنے والی ایبولا وبا کو بین الاقوامی تشویش کی پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق اس وبا سے 20 افراد متاثر ہوئے جبکہ 2 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ یہ وائرس مشرقی ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو سے پھیلنے کے بعد یوگنڈا پہنچا تھا۔
ایبولا ایک انتہائی خطرناک وائرل بیماری ہے جو بخار، قے، اسہال، شدید کمزوری، پٹھوں میں درد اور سنگین صورتحال میں اندرونی و بیرونی خون بہنے کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ بیماری متاثرہ افراد کے جسمانی سیال، خون، کپڑوں یا دیگر آلودہ اشیا کے براہ راست رابطے سے پھیلتی ہے۔
حالیہ وبا بنڈی بگیو (Bundibugyo) وائرس اسٹرین کے باعث سامنے آئی، جس کی شناخت پہلی بار 2007 میں یوگنڈا میں ہوئی تھی۔ اس وائرس کے لیے تاحال کوئی مخصوص علاج یا ویکسین دستیاب نہیں۔
یوگنڈا کا ایبولا فری اعلان افریقی خطے میں صحت عامہ کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔




















