اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں ایڈمنسٹریٹو یونٹس کی حمایت کردی۔
اسلام آباد میں پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش مسائل کے مستقل حل کے لیے سیاسی اور انتظامی نظام میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی روح کے مطابق نظام کو بہتر بنائے بغیر عوامی مسائل حل نہیں ہوسکتے اور تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ جس سیاسی نظام کے تحت ملک چل رہا ہے وہ اپنی افادیت کھوچکا ہے اور اگرچہ جمہوریت ضروری ہے لیکن جمہوریت کے اندر بھی مختلف طرز کے نظام موجود ہیں، اس لیے اصلاحات سے گریز نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ محض موجودہ نظام کو ہر صورت چلانے کی سوچ نے ملک کو مشکلات سے دوچار کیا ہے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم اور دیگر زرعی اجناس بیرون ملک سے درآمد کرنا تشویشناک ہے۔
محسن نقوی کہتے ہیں کہ عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص بہتر ہوا ہے اور ترقی کے آثار بھی نظر آرہے ہیں لیکن جب تک بنیادی ڈھانچے کو درست نہیں کیا جائے گا مسائل برقرار رہیں گے۔
وزیر داخلہ نے انتخابی سیاست میں سرمایہ کاری اور فنڈنگ کے نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ الیکشن سے قبل کروڑوں روپے کی فنڈنگ کرنے والے بھی اسی نظام کو کسی نہ کسی صورت برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ جب تمام اسٹیک ہولڈرز نظام کو بہتر بنانے کا فیصلہ کرلیں گے تو اصلاحات ممکن ہوجائیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ نظام میں ہر چیز خراب نہیں لیکن عام آدمی کو انصاف، روزگار اور بنیادی سہولتیں اپنے گھر کے قریب ملنی چاہئیں۔ اس مقصد کے لیے انتظامی اور مالی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوں گے اور نئے انتظامی یونٹس بنانے پر بھی غور کرنا ہوگا۔
محسن نقوی نے کہا کہ نوجوانوں کو صرف مالی امداد یا سہولیات دے کر مطمئن نہیں کیا جاسکتا، وہ میرٹ پر روزگار اور بہتر نظام چاہتے ہیں۔ اگر نوجوانوں کو مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ ماہانہ ہزاروں ڈالر کمانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا وزیراعظم شہباز شریف طویل اوقات تک کام کررہے ہیں لیکن صرف ہنگامی بنیادوں پر فیصلوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ خواہ ملک کو مزید کھربوں روپے بھی مل جائیں، بنیادی اصلاحات کے بغیر دیرپا بہتری ممکن نہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے زور دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بیٹھ کر ایسا نظام تشکیل دینا ہوگا جس میں اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل ہوں تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ کہیں نوجوان یا کاکروچ اگر اکٹھے ہوگئے تو یہ ہر چیز کو الٹ سکتے ہیں۔














