Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پی ٹی آئی بائیکاٹ کی سیاست چھوڑے، سنجیدہ کارکنوں کو ساتھ چلنے کی دعوت؛ بلاول بھٹو

کشمیر کی منتخب حکومت ہی حکومت کرے، یہی حقیقی حقِ حاکمیت ہے؛ بلاول بھٹو

مظفرآباد: انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی سے بائیکاٹ کی سیاست ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سنجیدہ کارکنوں کو ساتھ چلنے کی دعوت دے دی۔

مظفرآباد میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حقِ حاکمیت کا مطلب یہ ہے کہ جس کے حق میں ووٹ ڈالا جائے، کامیابی بھی اسی کی ہو اور ووٹ چوری کو کسی نوٹیفکیشن کے پیچھے نہ چھپایا جائے۔ کشمیر کی منتخب حکومت ہی حکومت کرے، یہی حقیقی حقِ حاکمیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو این ایف سی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آبزرور کا اسٹیٹس دلائیں گے جب کہ انتخابات کے بعد ایک آئینی کنونشن بلایا جائے گا جس میں تمام فریق شریک ہوں گے اور کشمیر کے آئینی مستقبل کا راستہ کشمیری عوام مل کر طے کریں گے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کشمیری مہاجرین ان کی تاریخ، وجود اور تحریک کا حصہ ہیں، ان کی حقیقی نمائندگی محفوظ رہنی چاہیے اور انہیں حقِ ملکیت بھی ملنا چاہیے۔ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کو بھی مختلف مسائل کا سامنا ہے اور ان کے ووٹ کو کسی کی جاگیر نہیں بننے دیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ نیلم جہلم منصوبے سے اگر پاکستان روشن ہوتا ہے تو صاف پانی مظفرآباد کے عوام کا بھی حق ہے۔ کشمیر کو اپنے وسائل کا منصفانہ مالی حصہ ملنا چاہیے اور ترقیاتی منصوبوں سے پیدا ہونے والا روزگار کشمیری نوجوانوں کو ہی ملنا چاہیے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کہتے ہیں کہ میرپور اور مظفرآباد میں انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی گئی، پونچھ میں بھی یہ سہولت فراہم کریں گے جب کہ کشمیری نوجوانوں کو جدید اور تیز رفتار انٹرنیٹ مہیا کیا جائے گا۔

انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ہر بس، سڑک، اسکول اور اسپتال کا خیرمقدم کرتے ہیں تاہم عوام پوچھیں گے کہ مظفرآباد میں کیا کام کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2020 میں شروع کیا گیا پل آج تک مکمل نہیں ہوسکا، سی ایم ایچ فلائی اوور بھی پانچ سال میں مکمل نہیں ہوا جب کہ مسلم لیگ (ن) نے کشمیر میں کوئی نمایاں کام نہیں کیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں قائم تین میڈیکل کالج پیپلز پارٹی کے دور میں بنائے گئے۔ کشمیر کے عوام کو صرف بسیں نہیں بلکہ اختیار، اسپتال اور انصاف بھی چاہیے جب کہ ٹروتھ کمیشن اب آزاد کشمیر اسمبلی کا مطالبہ ہے اور ریاستِ پاکستان کو اس مطالبے پر عمل کرنا چاہیے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر کشمیر میں ان کا مینڈیٹ چوری کیا گیا تو وفاق میں حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوجائے گی۔ انصاف ہوگا تو سب قبول کریں گے لیکن دھاندلی ہوئی تو خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

انہوں نے پی ٹی آئی سے بائیکاٹ کی سیاست چھوڑنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ سنجیدہ کارکنوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ میرپور کے انتخابات کے ثبوت اور ویڈیوز الیکشن کمیشن کو پیش کیے گئے مگر اس کے باوجود نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا کہ 2 اگست سے قبل تمام انتخابی شکایات کی کھلی سماعت کی جائے، نتائج اور انتخابی مواد عوام کے سامنے لایا جائے۔ اگر کوئی چوری نہیں ہوئی تو پھر انتخابی مواد کیوں چھپایا جارہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور کشمیر کا قومی مفاد کسی بھی جماعت کے ذاتی مفاد سے زیادہ اہم ہے۔ اگر مینڈیٹ چوری کیا گیا تو وہ اس کے خلاف بھرپور جدوجہد کریں گے۔ پیپلز پارٹی کے کارکن وہ ہیں جنہوں نے ضیا الحق اور پرویز مشرف کے ادوار کا مقابلہ کیا اور آج بھی ہر سیاسی چیلنج کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں