دور جدید میں صحت کا خیال رکھنے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد روایتی طریقہ کار کے بجائے بہت سی ڈیجیٹل ڈیوائسز کا استعمال کرتی ہیں تاکہ جسم میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی سے آگاہ رہ سکیں لیکن کچھ لوگ ایسی ڈیوائسز استعمال کرنے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ دوسروں کو معلوم ہو کہ وہ کسی طبی نگرانی کے آلے کا استعمال کر رہے ہیں۔
تاہم امریکا کی ٹفٹس یونیورسٹی کے محققین نے اس مسئلے کا ایک منفرد حل پیش کیا ہے۔ انہوں نے ایک ایسا الیکٹرانک دھاگا تیار کیا ہے جو اتنا باریک، ہلکا، نرم اور لچکدار ہے کہ اسے پہننے والا خود بھی بمشکل محسوس کرپاتا ہے۔
فی الحال بہت سے لوگ صحت کی نگرانی کے لیے اسمارٹ واچ یا اسمارٹ رنگ استعمال کرتے ہیں لیکن یہ نئی ٹیکنالوجی عام دھاگے کی شکل میں استعمال جا سکتی ہے جس سے طبی نگرانی مزید آسان اور غیر نمایاں ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: جلد سے مس ہوکر دل، دماغ اور پٹھوں کی سرگرمی نوٹ کرنے والا انقلابی الیکٹرانک ٹیٹو
محققین نے اس دھاگے میں نہایت چھوٹے سینسر، ٹرانزسٹر اور دیگر الیکٹرانک پرزے نصب کیے ہیں۔ تجربات کے دوران انہوں نے ثابت کیا کہ یہ دھاگا جسم کے انتہائی معمولی اشاروں کو بھی ریکارڈ کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، کنپٹی پر لگایا گیا دھاگا آنکھ جھپکنے کا پتہ لگا سکتا ہے جبکہ سینے پر لگایا گیا دھاگا سانس لینے کی رفتار میں آنے والی تبدیلیوں کو محسوس کر سکتا ہے۔ یہ معلومات ذہنی دباؤ، بیماری یا دیگر جسمانی کیفیت کی نشاندہی کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کی ایک بڑی خوبی اس کی لچک ہ۔ یہ دھاگا مڑنے، کھنچنے یا لپیٹے جانے پر بھی خراب نہیں ہوتا اس لیے اسے کھیلوں کے لباس، کام کے یونیفارم یا روزمرہ کے کپڑوں میں آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسے براہِ راست جلد پر بھی لگایا جا سکتا ہے تاکہ جسم یا ماحول سے متعلق معلومات مسلسل حاصل کی جا سکیں۔
محققین کے مطابق اس ایجاد سے طبی نگرانی کے آلات سخت اور نمایاں ڈیوائسز کے بجائے عام ریشوں کی طرح جسم کے ساتھ قدرتی انداز میں حرکت کر سکیں گے۔ مستقبل میں یہ دھاگا ٹانکوں کی طرح جسم کے اندر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں یہ زخم بھرنے کے عمل، سانس کی نگرانی، گرنے کے خطرے کا اندازہ لگانے اور جسمانی یا ذہنی کمزوری کی ابتدائی علامات معلوم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
یہ الیکٹرانک دھاگا سونے کی باریک تہہ والے ریشوں، لچکدار ٹرانزسٹروں اور ایک خاص نرم مادے ایوٹیکٹو جیل پر مشتمل ہے، جو برقی رو کے بہاؤ کو کنٹرول کرتا ہے۔ اگرچہ دھاگا ٹوٹ جائے تو سرکٹ کام کرنا بند کر دیتا ہے، لیکن کم درجہ حرارت پر اسے دوبارہ جوڑا بھی جا سکتا ہے۔
اس نئی ٹیکنالوجی کی ایک اور اہم خوبی یہ ہے کہ اسے تیار کرنے کے لیے روایتی مائیکرو چپس کی طرح مہنگی اور پیچیدہ فیکٹریوں یا کلین رومز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ چونکہ اسے کپڑے بنانے میں استعمال ہونے والے مواد اور نرم پولیمرز کے ذریعے تیار کیا جا سکتا ہے، اس لیے مستقبل میں اس کی بڑے پیمانے پر پیداوار نسبتاً کم لاگت میں ممکن ہو سکتی ہے۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، تاہم مستقبل میں اس کی تیاری کا عمل مزید تیز، زیادہ درست اور زیادہ جدید بنایا جائے گا تاکہ یہ دھاگے مزید پیچیدہ طبی اور الیکٹرانک کام بھی انجام دے سکیں۔
یہ الیکٹرانک دھاگا جدید طبی نگرانی کی ان نئی ٹیکنالوجیز میں شامل ہو گیا ہے جن میں جلد پر لگنے والے اسمارٹ اسٹیکرز، پینٹ کی طرح لگائے جانے والے بایومیڈیکل ٹیٹو اور اسٹیتھو اسکوپ نما پیچ بھی شامل ہیں۔




















