کراچی: میر رضا کے والد کا کہنا ہے کہ وہ 30 تاریخ سے کہہ رہے ہیں کہ ان کے بیٹے کا قتل ہوا ہے لیکن ان کی بات پر یقین نہیں کیا گیا اور پولیس خودکشی کے مؤقف پر زور دیتی رہی۔
میر رضا کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو بات وہ 10 روز سے کہہ رہے تھے کہ ان کے بیٹے پر تشدد ہوا، پولیس اسے مان نہیں رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے انہیں مسلسل خودکشی سے متعلق باتیں بتائی جاتی رہیں تاہم وہ پہلے روز سے مطالبہ کررہے ہیں کہ قتل کرنے والے کو سامنے لایا جائے۔
میر رضا کے والد کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے سے متعلق غلط باتیں پھیلائی گئیں، اگر یہ خودکشی ہوتی تو رپورٹ سامنے آتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے وکیل جبران ناصر کے مؤقف کے ساتھ کھڑے ہیں، انہیں معلوم نہیں کہ وہ کون سے عناصر ہیں جنہوں نے قتل کیا تاہم پولیس کو سب خبر ہے۔
میر رضا کے وکیل کا تحقیقاتی ٹیم تبدیل کرنے کا مطالبہ
دوسری جانب میر رضا کے وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس سے تفتیش نہیں کی جارہی بلکہ میر رضا کے خاندان کو ہراساں کیا جارہا ہے جب کہ اے آئی جی کراچی نے خاندان سے کہا کہ وہ مان لیں کہ میر رضا نے خودکشی کی۔
انہوں نے کہا کہ میر رضا کی ٹھوڑی پر انجری، ماتھے پر چوٹ کا نشان تھا، لگتا ہے کہ اسے مارنے سے پہلے مکے مارے گئے۔
وکیل جبران ناصر کے مطابق میر رضا کے جسم سے کالا مواد ملا ہے جسے فرانزک کے لیے لیبارٹری بھیجا گیا ہے جب کہ 17 سیمپلز بھی فرانزک کے لیے بھیجے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ثابت ہوگیا ہے کہ میر رضا کی کمر پر گولی لگی جس کے اثرات پانچویں پسلی پر آئے، گولی لگنے سے پھیپھڑوں میں خون بھرگیا تھا جب کہ تصدیق ہوگئی کہ گولی پیچھے سے ماری گئی، سامنے سے نہیں۔
جبران ناصر کا کہنا تھا کہ میر رضا کے پاؤں کے انگوٹھے پر بھی زخم ہے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ میر رضا کا بہیمانہ قتل کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اے آئی جی اور ایس ایس پی کی تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد نہیں، پوری تحقیقاتی ٹیم تبدیل ہونی چاہیے، صرف ٹیم کی تبدیلی کافی نہیں ہوگی۔
جبران ناصر کہتے ہیں کہ بہت سوچ سمجھ کر نئی ٹیم بنائی جائے، بصورت دیگر عدالت سے رجوع کریں گے۔ تفتیشی ٹیم میں اچھی شہرت رکھنے والے پولیس افسران کو شامل کیا جائے۔
وکیل نے کہا کہ بورڈ ارکان کو تبدیل کرکے تماشا کیا گیا، سوال ہے کہ کیا اسپیشل میڈیکل بورڈ قبرستان گیا تھا؟
انہوں نے مزید کہا کہ گیسٹ ہاؤس کے ملوث ہونے کا اب بھی شک ہے تاہم مالک کون ہے یہ معلوم ہونا چاہیے۔ اگر کسی کو بھتہ لینا ہوگا تو اس نے لوگوں کو ہائر کیا ہوگا۔
جبران ناصر کے مطابق جہاں سے میر رضا کی لاش ملی، وہاں سے کچھ عرصے میں یہ تیسری لاش ملی ہے جب کہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میر رضا کے والدین نے رپورٹ وصول کرلی ہے اور وہ عدالت میں اپنا مؤقف پیش کریں گے۔















