دنیا بھر میں ہر 100 میں سے تقریباً دو بچے پیدائشی دل کی بیماری کے ساتھ جنم لیتے ہیں تاہم اب سائنس دانوں نے طویل عرصے کی تحقیق کے بعد اس کا ذمہ دار پروٹین دریافت کر لیا ہے۔
یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کے محققین نے خلیوں کی سطح پر رابطے کے ایک ایسے طریقۂ کار یا سگنلنگ نظام کو دریافت کیا جو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ بعض جنین میں دل اور دیگر اعضا بیک وقت بیماریوں کا شکار کیوں ہوتے ہیں۔
محققین کے مطابق خلیوں کی سطح پر رابطے کا نظام بچے کے دل کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ نظام خلیے کے باہر موجود ایک نہایت چھوٹے حصے پرائمری سیلیم میں کام کرتا ہے۔ اسے خلیے کا ایک طرح کا ”اینٹینا“ سمجھا جا سکتا ہے جو خلیے کو مختلف سگنلز سمجھنے اور ان کے مطابق کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔
محققین نے دریافت کیا کہ ٹی اے کے ون، ٹی اے بی ٹواور پی کے اے سی الفا نامی تین پروٹین مل کر اس نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ پروٹین اسٹیم سیلز کو ہدایات دیتے ہیں کہ وہ کب اور کس طرح دل کے پٹھوں کے خلیوں میں تبدیل ہوں۔
اگر ان پروٹینز یا ان سے متعلق جینز میں جینیاتی خرابی پیدا ہو جائے تو خلیوں کے درمیان یہ ضروری ”پیغام رسانی“ متاثر ہو سکتی ہے۔ نتیجتاً بچے کے دل کی نشوونما میں خرابی پیدا ہو کر پیدائشی دل کا نقص سامنے آ سکتا ہے۔
محققین نے اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے پیدائشی دل کے نقائص والے ہزاروں افراد کے جینیاتی ڈیٹا کا مطالعہ کیا اور پھر زیبرا فِش، انسانی خلیوں اور چوہوں کے اسٹیم سیلز پر تجربات کیے۔ ان تجربات میں بھی جینیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دل کی نشوونما اور کارکردگی متاثر ہوئی۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ نظام صرف دل ہی نہیں بلکہ دماغ، گردوں اور ہڈیوں سمیت جسم کے دوسرے اعضا کی نشوونما میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔ اسی لیے بعض بچوں میں پیدائشی دل کے نقص کے ساتھ دوسرے اعضا بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ تحقیق سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ بعض بچوں میں پیدائشی دل کے نقائص کیوں پیدا ہوتے ہیں۔ مستقبل میں اس علم کی مدد سے ایسے جینیاتی امراض کی جلد شناخت اور ممکنہ طور پر مخصوص اور مؤثر علاج کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔




















