ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ویپ کا استعمال اگرچہ سگریٹ نوشی کے مقابلے میں کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے استعمال سے پھیپھڑوں، دل، منہ اور ذہنی صحت سمیت جسم کے مختلف حصے متاثر ہوسکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد میں سانس کی بیماریوں، دل کے مسائل اور بعض اقسام کے سرطان کا خطرہ بڑھ سکتا ہے جب کہ نوجوانوں میں اس کا بڑھتا رجحان تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
پھیپھڑوں کے سرطان کا خطرہ
ماہرین کے مطابق الیکٹرانک سگریٹ سے خارج ہونے والی بھاپ میں نکوٹین، ذائقہ پیدا کرنے والے اجزا اور مختلف کیمیائی مادے شامل ہوتے ہیں جو پھیپھڑوں میں جلن اور سوزش کا سبب بن سکتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ وہ افراد جو سگریٹ چھوڑ کر ویپ کا استعمال شروع کرتے ہیں تو ان میں پھیپھڑوں کے سرطان کا خطرہ ان افراد کے مقابلے میں زیادہ پایا گیا ہے جو سگریٹ مکمل طور پر ترک کردیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ویپ کے استعمال سے پھیپھڑوں کی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے اور طویل عرصے تک استعمال کرنے سے سانس کی دائمی بیماری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس بیماری میں وقت کے ساتھ پھیپھڑوں کی ہوا لینے کی صلاحیت کم ہونے لگتی ہے۔
دل کے لیے بھی نقصان دہ ثابت
ویب کا استعمال دل کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق نکوٹین دل کی دھڑکن اور خون کا دباؤ بڑھاتی ہے جب کہ خون کی شریانوں کی سختی میں بھی اضافہ کرسکتی ہے جس سے دل کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
جسمانی فٹنس میں کمی
تحقیقی جائزوں میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ویپ استعمال کرنے والے نوجوانوں میں جسمانی فٹنس کم، ورزش کی صلاحیت متاثر اور تھکاوٹ زیادہ دیکھی گئی ہے۔
منہ کے کینسر کا خطرہ
ماہرین کے مطابق ویپ کا استعمال سے منہ اور پھیپھڑوں کے سرطان کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ ویپ کے محلول کو گرم کرنے کے دوران بعض نقصان دہ کیمیائی مادے پیدا ہوسکتے ہیں جو طویل مدت میں جسم کے خلیوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔
ذہنی صحت متاثر
ذہنی صحت کے حوالے سے بھی ویپ کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ نکوٹین کی طلب انسان میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور مزاج میں تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ ویپ شیئر کرنے سے جراثیم اور بیماریاں منتقل ہونے کا خطرہ بھی موجود ہوتا ہے کیونکہ ایک ہی آلے کے استعمال سے تھوک اور سانس کے ذریعے جراثیم پھیل سکتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جو افراد سگریٹ نوشی نہیں کرتے انہیں ویپ کا استعمال شروع نہیں کرنا چاہیے۔ ویپنگ صرف ان افراد کے لیے ہونی چاہیے جو سگریٹ نوشی چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہوں جب کہ نوجوانوں میں اس کے رجحان کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔




















