وائٹ ہاؤس نے ٹیرف چوری سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں 40 سے زائد ممالک پر امریکی محصولات سے بچنے میں معاونت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چینی مصنوعات کو کم ٹیرف والے ممالک کے راستے امریکا پہنچا کر اضافی محصولات سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جاری کردہ فہرست میں بھارت، اسرائیل، متحدہ عرب امارات، جاپان اور کینیڈا سمیت 40 سے زائد ممالک کے نام شامل ہیں جبکہ اس میں پاکستان کا نام شامل نہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیرف سے بچنے کے لیے بعض ممالک کو درمیانی راستے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جہاں مصنوعات کی ری لیبلنگ اور ری پیکنگ کے ذریعے ان کی اصل شناخت اور ملکِ پیدائش چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ’گریٹ ٹرانس شپمنٹ‘ اسکیم کے باعث امریکا کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ غیر قانونی ٹرانس شپمنٹ کا سالانہ حجم 40 ارب سے 303 ارب ڈالر تک ہونے کا تخمینہ ہے۔
رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر سالانہ 75 ارب ڈالر کی ٹرانس شپمنٹ کے ذریعے ٹیرف چوری جاری رہی تو اس کے نتیجے میں تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار امریکی ملازمتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ٹیرف چوری کی روک تھام کے لیے کسٹمز کی نگرانی مزید سخت کرنے اور غیر قانونی ٹرانس شپمنٹ کے خلاف کارروائیاں بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔



















