واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے نے خلاء میں تیزی سے نیچے آتی اپنی خلائی دوربین کو بچانے کا مشن ختم کردیا جس کے بعد دو دہائیوں سے زائد عرصے تک کائنات کے اہم واقعات کا مشاہدہ کرنے والی دوربین رواں سال کے آخر میں زمین کی فضا میں داخل ہوکر تباہ ہوسکتی ہے۔
ناسا اور خلائی ٹیکنالوجی کمپنی نے بدھ کے روز مشن ختم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ خلائی دوربین کو محفوظ اور بلند مدار میں منتقل کرنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد کیا گیا۔
ناسا کے مطابق دوربین کو بچانے کے لئے بھیجے گئے خلائی جہاز میں مسلسل قابو پانے کے مسائل برقرار رہے جس کے باعث وہ دوربین کو پکڑ کر اسے بلند مدار میں منتقل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔
امریکی خلائی ادارے نے اس مقصد کے لئے کمپنی کو 3 کروڑ ڈالر ادا کیے تھے تاہم سورج کی شدید سرگرمی کے باعث دوربین نے توقع سے زیادہ تیزی سے بلندی کھونا شروع کردی۔
جولائی کے آغاز میں روانگی کے چند ہفتوں بعد دوربین کو بچانے کے لئے بھیجے گئے خلائی جہاز میں قابو سے باہر گردش کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ اگرچہ ماہرین نے اس کی گردش کم کرنے میں کامیابی حاصل کی تاہم خلاء میں اس کی سمت اور مقام کو قابو میں رکھنے کے مسائل برقرار رہے۔
یاد رہے کہ یہ دوربین 2004 میں خلاء میں بھیجی گئی تھی اور اس نے تباہ ہونے والے ستاروں اور شدید توانائی کے دھماکوں سمیت کائنات کے اہم واقعات کا مشاہدہ کیا۔
رواں سال کے آغاز میں دوربین کے سائنسی آلات بند کردیے گئے تھے تاکہ اس کے مدار سے نیچے آنے کی رفتار کم کی جاسکے۔ گزشتہ ہفتے یہ زمین سے تقریباً 347 کلومیٹر کی بلندی پر گردش کر رہی تھی۔
کمپنی اب بھی خلائی جہاز کو دوربین کے قریب رکھ کر مستقبل میں خلائی آلات کو بچانے کی صلاحیتوں کا تجربہ کرے گی۔
ناسا کی مشہور خلائی دوربین بھی سورج کی حالیہ شدید سرگرمیوں کے باعث اپنے مدار کی بلندی کھو رہی ہے تاہم اس کے مستقبل کے حوالے سے فوری طور پر کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔




















