امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے ایسے اسمارٹ گلاسز سے متعلق نئی ٹیکنالوجی کے حقوق حاصل کرنے کی درخواست دے دی ہے جو تصویر میں موجود افراد کے چہروں کو شناخت کرنے اور ویڈیوز سے خودکار طور پر نمایاں لمحات تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوگی۔
کمپنی کی جانب سے دائر درخواست میں ایسے گلاسز کا تصور پیش کیا گیا ہے جو کیمرے سے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز کا مصنوعی ذہانت کے ذریعے تجزیہ کرسکے گی۔
مجوزہ ٹیکنالوجی تصویر میں موجود افراد کی شناخت کے ساتھ یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ وہ گلاسز استعمال کرنے والے شخص کے ساتھ کس تعلق میں ہیں۔
اس نظام کے ذریعے کسی تقریب یا دعوت کے دوران بنائی گئی ویڈیوز میں موجود افراد اور ان کی سرگرمیوں کی شناخت کرکے خودکار طور پر اہم مناظر پر مشتمل مختصر ویڈیو تیار کی جاسکے گی۔
مثال کے طور پر اگر کوئی شخص دعوت کے دوران ویڈیو بناتا ہے تو نظام اس میں شریک افراد اور ان کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر تقریب کے نمایاں لمحات پر مشتمل ویڈیو تیار کرنے کی پیشکش کرسکتا ہے۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ایک سے زیادہ کیمروں سے حاصل ہونے والی تصاویر کا تجزیہ کرکے یہ طے کرسکتی ہے کہ منظر میں کون سی چیز یا سرگرمی اہم ہے۔
اگرچہ ٹیکنالوجی کو بنیادی طور پر اسمارٹ گلاسز کے لیے پیش کیا گیا ہے تاہم اس کے استعمال کو حفاظتی نگرانی کے نظام تک بھی وسعت دی جاسکتی ہے۔
میٹا کے اسمارٹ گلاسز کو پہلے ہی رازداری کے حوالے سے تنقید کا سامنا ہے۔ برطانیہ میں بعض شراب خانوں، تفریحی مقامات اور تھیٹروں میں ایسے گلاسز کے استعمال پر پابندی عائد کی جاچکی ہے۔
نیویارک میں عدالتوں کے اندر بھی خفیہ طور پر ریکارڈنگ روکنے کے لیے اسمارٹ گلاسز کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے جس کے باعث چہروں کی شناخت کرنے والی نئی ٹیکنالوجی نے رازداری سے متعلق خدشات مزید بڑھادیے ہیں۔




















