Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

لارڈز میں پاکستانی بیٹنگ پھر ناکام، انگلینڈ نے سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل کر لی

تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے برمنگھم کے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں شروع ہوگا

لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ناقص بیٹنگ نے ایک بار پھر شائقین کو مایوس کردیا انگلینڈ نے پاکستان کو 194 رنز سے شکست دے کر تین میچز کی سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔

پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے 389 رنز کا ہدف ملا تھا، مگر قومی ٹیم کی دوسری اننگ بھی پہلی اننگ کا نقشہ بدلنے میں ناکام رہی اور پوری ٹیم صرف 194 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔ یوں جس ہدف کو چوتھی اننگ میں ایک بڑے تعاقب کا امتحان ہونا تھا، وہ پاکستان کی بیٹنگ کے لیے ایک اور شرمندگی کی داستان بن گیا۔

انگلینڈ نے چوتھے روز اپنی دوسری اننگ 177 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ سے دوبارہ شروع کی اور آخری تین وکٹیں 31 رنز کے اضافے سے گنوا کر 208 رنز پر آل آؤٹ ہوگیا۔ ڈین لارنس نے 70 گیندوں پر 54 رنز کی اننگ کھیل کر انگلینڈ کی مزاحمت کو مضبوط کیا۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی چھٹی نصف سنچری تھی۔

پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 57 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں۔ 36 سالہ عباس کی لارڈز میں یہ پہلی پانچ وکٹوں کی کارکردگی تھی اور تاریخی میدان پر کسی پاکستانی بولر کی پانچ وکٹوں کی یہ ساتویں کارکردگی بن گئی۔ خرم شہزاد اور محمد علی نے بھی 2،2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

لیکن جہاں پاکستانی بولرز نے اپنی ذمہ داری نبھائی، وہیں بیٹنگ لائن ایک مرتبہ پھر بوجھ بن گئی۔

389 رنز کے ہدف کے تعاقب میں امام الحق پنڈلی کی تکلیف کے باعث دوسری اننگ میں بھی بیٹنگ کے لیے دستیاب نہیں تھے اور شان مسعود کے ساتھ اذان اویس نے اننگ شروع کی۔ پاکستان کا مجموعی اسکور صرف 14 رنز تک پہنچا تھا کہ اذان اویس، عبداللہ شفیق اور کپتان بابر اعظم کی وکٹیں گر گئیں۔

یہ وہ مرحلہ تھا جہاں ایک مضبوط ٹیسٹ ٹیم دباؤ کا جواب دیتی ہے، مگر پاکستان کو ایک بار پھر انفرادی مزاحمت پر انحصار کرنا پڑا۔ شان مسعود اور سعود شکیل نے چوتھی وکٹ کے لیے 97 رنز جوڑ کر کچھ دیر کے لیے تباہی کو روکے رکھا۔

بارش کے وقفے کے بعد کھیل دوبارہ شروع ہوا تو اولے رابنسن نے شان مسعود کو ایل بی ڈبلیو کردیا۔ ابتدائی طور پر امپائر پالیکر نے انہیں ناٹ آؤٹ قرار دیا، لیکن ڈی آر ایس نے گیند کو وکٹوں سے ٹکراتا ہوا دکھایا اور فیصلہ تبدیل ہوگیا۔ شان مسعود 72 گیندوں پر 26 رنز بناسکے۔

محمد رضوان بھی رابنسن کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے اور صرف 9 گیندوں پر 4 رنز بناکر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

اس کے بعد علی عثمان کو جوفرا آرچر نے 16 کے انفرادی اسکور پر پویلین بھیج دیا۔ دوسری جانب سعود شکیل ایک مرتبہ پھر ٹیم کی آخری امید بنے رہے، لیکن اپنی پانچویں ٹیسٹ سنچری سے صرف 3 رنز دور وہ جوش ٹونگ کی گیند پر پل شاٹ کھیلتے ہوئے ہیری بروک کے ہاتھوں باؤنڈری پر کیچ ہوگئے۔

سعود شکیل نے 122 گیندوں پر 13 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 97 رنز بنائے، لیکن ان کی مزاحمت بھی پاکستان کو شکست سے نہ بچا سکی۔

انگلینڈ کی جانب سے اولے رابنسن نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں اور پاکستان کی دوسری اننگ 194 رنز پر سمیٹ دی۔

لارڈز میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا سوال شکست کا مارجن نہیں بلکہ بیٹنگ کا مسلسل انہدام ہے۔ پہلی اننگ میں 290 رنز کے جواب میں 110 رنز اور دوسری اننگ میں 389 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 194 رنز اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسئلہ محض ایک خراب سیشن یا ایک دو کھلاڑیوں کی ناکامی تک محدود نہیں۔

سینئر بیٹرز سے لے کر اوپننگ جوڑی تک، پاکستان کی بیٹنگ انگلش کنڈیشنز میں مسلسل دباؤ کا شکار رہی۔ بابر اعظم کی ناکامی، امام الحق کی عدم دستیابی، رضوان کی مختصر اننگ اور باقی بیٹرز کی مزاحمت میں تسلسل نہ ہونا ٹیم کے مجموعی بیٹنگ پلان پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان نے لارڈز میں 389 رنز کا ہدف حاصل کرنے کے بجائے صرف شکست کے مارجن کو کم کرنے کی کوشش کی، مگر وہ بھی نہ ہو سکا۔

انگلینڈ نے 194 رنز کی فتح کے ساتھ سیریز اپنے نام کرلی ہے، جبکہ پاکستان کے پاس اب صرف ایک ٹیسٹ باقی ہے۔ تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے برمنگھم کے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں شروع ہوگا۔

متعلقہ خبریں