Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

میر رضا قتل کیس کی فائنل میڈیکل رپورٹ جاری

میڈیکل بورڈ نے دستیاب شواہد کی بنیاد پر موت کو خودکشی قرار دینے کی حمایت نہیں کی۔

کراچی میں میر رضا قتل کیس کی فائنل میڈیکل رپورٹ جاری کردی گئی جس کے مطابق موت سینے میں گولی لگنے سے دل پھٹنے کے باعث ہوئی جبکہ میڈیکل بورڈ نے دستیاب شواہد کی بنیاد پر موت کو خودکشی قرار دینے کی حمایت نہیں کی۔

ایکسہومیشن اور تمام متعلقہ میڈیکل و فرانزک رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد میڈیکل بورڈ نے متفقہ رائے دی کہ گولی کمر کی جانب سے سینے میں داخل ہوئی اور جسم کے اگلے حصے سے باہر نکلی۔

فائنل رپورٹ کے مطابق گولی کا راستہ خودکشی کے عام طریقہ کار سے مطابقت نہیں رکھتا جبکہ سامنے آنے والے شواہد بھی موت کو خودکشی قرار دینے کی حمایت نہیں کرتے۔

رپورٹ میں فائرنگ سے متعلق شواہد کا بھی جائزہ لیا گیا جس دوران کپڑوں، سینے اور دیگر متعلقہ نمونوں میں گولی چلنے کے بعد پیدا ہونے والے ذرات کے آثار پائے گئے۔

میڈیکل رپورٹ کے مطابق کپڑوں کے نمونوں میں ہائیڈروکلورک ایسڈ کے آثار بھی ملے جبکہ خون کے نمونے میں بُوپیواکین نامی بے ہوشی کی دوا کی موجودگی سامنے آئی۔

تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خون اور دیگر نمونوں میں کسی نشہ آور مادے، نیند کی دوا یا زہریلے مادے کے واضح آثار نہیں پائے گئے۔

دوسری جانب ڈی این اے رپورٹ کے مطابق کلاویکل کی ہڈی سے حاصل کیے گئے نمونے کو میر رضا علی کی حیاتیاتی اولاد ہونے کے امکان سے خارج نہیں کیا جا سکا۔

میڈیکل بورڈ نے قبر کشائی، طبی معائنے اور تمام متعلقہ فرانزک رپورٹس کی بنیاد پر موت کی وجہ سے متعلق اپنی متفقہ رائے دی ہے جبکہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ دستیاب شواہد کی روشنی میں موت کو خودکشی قرار دینے کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔

متعلقہ خبریں