چین کے شہر یانتائی میں ایک 19 سالہ اسٹریٹ فوڈ اسٹال کا مالک اپنے منفرد لباس کے وجہ سے خوب وائرل ہورہا ہے۔
ایشیائی نائٹ مارکیٹوں میں عموماً آپ کو سڑکوں کے کنارے درجنوں کھانے کے اسٹال نظر آئیں گے جہاں مختلف قسم کے فرائی، گرل یا اُبلے ہوئے اسنیکس فروخت کیے جاتے ہیں لیکن ایسا کتنی بار ہوتا ہے کہ ایک نہایت اسٹائلش ’’بزنس مین‘‘ کھانا پکاتا ہوا دکھائی دے۔
تاہم چین کے صوبہ شانڈونگ کے شہر یانتائی کی نائٹ مارکیٹ جائیں، تو شاید آپ کی ملاقات مشہور ’’اسٹر فرائی سی ای او‘‘ سے ہو جائے۔

شیاو لو نے 17 سال کی عمر میں اپنے خاندان کے اسٹریٹ فوڈ اسٹال کو چلانا شروع کیا اس کے والد اجزاء تیار کرتے تھے جبکہ لو کھانا پکانے کی ذمہ داری سنبھالتا تھا تاہم جلد ہی اسے احساس ہوا کہ مارکیٹ میں موجود دیگر اسٹالز سے الگ پہچان بنانے کے لیے کچھ منفرد کرنا ضروری ہے۔
ایک دن اس نے اپنے لباس میں نفاست پیدا کرنے کے لیے ویسٹ کوٹ پہن لیا اور لوگوں کا ردِعمل اتنا مثبت تھا کہ بعد میں اس نے مکمل بزنس سوٹ پہننا شروع کر دیا۔

چینی میڈیا کے مطابق شیاو لو روزانہ شام 5 بجے اپنے نائٹ مارکیٹ اسٹال پر کام شروع کرتا ہے اور رات تقریباً 11:30 بجے تک لگ بھگ 200 پلیٹیں تیار کرتا ہے جبکہ اس کے خاندان کے افراد سبزیاں کاٹنے، ساسز اور شوربے تیار کرنے میں اس کی مدد کرتے ہیں لیکن اپنی منفرد پوشاک اور ’’سی ای او‘‘ جیسی شخصیت کی وجہ سے اصل توجہ وہی حاصل کرتا ہے۔
لو کے شاندار انداز کا موازنہ جاپانی اینیمی ون پیس کے اسٹائلش باورچی سانجی سے بھی کیا جا رہا ہے جسے ایچرو اوڈا نے تخلیق کیا تھا جب اس نے ڈوین جو کہ چین کا ٹک ٹاک ورژن ہے پر اپنی اسٹر فرائی ویڈیوز شیئر کرنا شروع کیں تو وہ اتنا مقبول ہوگیا کہ لوگ اسے کام کرتے دیکھنے کے لیے ملک بھر سے آنے لگے۔
حال ہی میں ایک انٹرویو میں لو نے کہا ’’لوگ شاید تجسس میں آ کر کھانا خریدتے ہوں لیکن جو چیز انہیں دوبارہ واپس لاتی ہے وہ اس کا ذائقہ ہے میں صرف وہی کر رہا ہوں جو مجھے پسند ہے اگر اس سے لوگوں کو کچھ مثبت توانائی ملتی ہے تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔
نوجوان’’اسٹر فرائی سی ای او‘‘ کے مطابق آن لائن وائرل ہونے کے بعد کاروبار اتنا بڑھ گیا ہے کہ وہ شام 5 بجے سے رات 11:30 تک تقریباً مسلسل کام کرتا رہتا ہے وہ ہر تین منٹ میں ایک پلیٹ تیار کرتا ہے اور بعض اوقات طلب پوری کرنے کے لیے ایک ساتھ کئی ووکس (کڑاہیوں) پر کھانا پکاتا ہے۔




















