ایک چینی اسٹارٹ اپ نے حال ہی میں ایک اے آئی سے چلنے والا “پالتو جانور مترجم” متعارف کروایا ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ بلیوں اور کتوں کی آوازوں کو تقریباً 95 فیصد درستگی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔
ہانگژو میں قائم ٹیک کمپنی ’’مینگ شیاوئی‘‘ کے مطابق یہ نیا پالتو مترجم بے حد مؤثرطریقے سے کام کرتا ہے کمپنی کا دعویٰ ہے کہ محض گلے میں پہننے سے یہ ڈیوائس پالتو جانوروں کی آوازوں، جذبات اور رویوں کو تقریباً 95 فیصد درستگی کے ساتھ پہچان سکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ اے آئی مترجم علی بابا کلاؤڈ، ٹونگئی قین وین جسے قوین بھی کہا جاتا ہے بڑے لینگویج ماڈل پر مبنی ہے اور اس نے پالتو جانوروں کے رویوں اور آوازوں سے متعلق لاکھوں وائس پرنٹ ڈیٹا پوائنٹس جمع کیے ہیں انہی کی مدد سے یہ نظام پالتو جانوروں کی آوازوں، جذبات اور رویوں کو اعلیٰ درستگی کے ساتھ سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم کمپنی نے ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے کوئی سائنسی ٹیسٹ یا تحقیق پیش نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایڈٹ کرتے وقت اے آئی نے تصویر آسیب زدہ بنادی
اس ڈیوائس کی قیمت 799 یوان تقریباً 118 امریکی ڈالر رکھی گئی ہے تاہم چینی سوشل میڈیا پر اس حوالے سے تنازع بھی پیدا ہو گیا ہے جہاں بعض صارفین نے اسےانسانی ذہانت کا امتحان قرار دے رہے ہیں نہ کہ ایک حقیقی پالتو مترجم۔




















