Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

رواں مالی سال وفاقی مالی خسارہ 6,501 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان

مالی سال 2025-26 میں قرضوں پر سود کی ادائیگیاں بڑھ کر 8 ہزار 207 ارب روپے تک پہنچ گئی ہیں۔

اسلام آباد: رواں مالی سال کے دوران وفاقی مالی خسارہ 6 ہزار 501 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جب کہ مجموعی مالی خسارہ 5 ہزار 37 ارب روپے یعنی جی ڈی پی کے 3.9 فیصد کے برابر رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مالی سال 2025-26 میں قرضوں پر سود کی ادائیگیاں بڑھ کر 8 ہزار 207 ارب روپے تک پہنچ گئی ہیں جس کے باعث وفاقی اخراجات کا بڑا حصہ صرف قرضوں کی واپسی پر خرچ ہورہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق وفاقی بجٹ کا تقریباً 74 فیصد حصہ قرضوں کی ادائیگیوں کی نذر ہونے کا امکان ہے جس سے ترقیاتی اور دیگر شعبوں کے لیے مالی گنجائش محدود ہوگئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دفاعی اخراجات کے لیے 2 ہزار 550 ارب روپے مختص کیے گئے جو مجموعی اخراجات کا 23 فیصد بنتے ہیں جب کہ صوبوں کو گرانٹس اور ٹرانسفرز کی مد میں 1 ہزار 928 ارب روپے دیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کی مجموعی آمدن 19 ہزار 278 ارب روپے رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے تاہم محصولات کا بڑا حصہ بھی قرضوں پر سود کی ادائیگی میں صرف ہوگیا۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ رواں مالی سال وفاقی حکومت کا حصہ 11 ہزار 72 ارب جب کہ صوبوں کا حصہ 8 ہزار 206 ارب روپے مقرر رہا۔

اسی طرح سول حکومت کے انتظامی اخراجات 971 ارب روپے، سبسڈیز 1 ہزار 186 ارب روپے اور پینشن ادائیگیاں 1 ہزار 55 ارب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔

ہنگامی اخراجات کے لیے 389 ارب روپے اور نیٹ لینڈنگ کی مد میں 287 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ قرضوں پر سود کی ادائیگیاں جی ڈی پی کے 7.8 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے جب کہ مجموعی طور پر بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں، دفاع اور سبسڈیز پر خرچ ہورہا ہے۔