Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

تیل، سونا اور تانبا اب حقیقت نہیں، خبروں کے غلام؟ کموڈیٹی مارکیٹس کے بدلتے رویے پر بڑا سوال

بڑے اعلانات سے قبل غیر معمولی تجارت کی نگرانی بڑھائیں

عالمی کموڈیٹی مارکیٹس کے حوالے سے ایک اہم سوال سامنے آ گیا ہے کہ کیا تیل، سونا، چاندی اور تانبے کی قیمتیں اب حقیقی طلب و رسد کے بجائے مالیاتی قیاس آرائیوں اور خبروں کے اثرات سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں؟

چوہدری محمد اکمل، FCMA کے مطابق اسٹاک مارکیٹس کا فوری ردعمل اس لیے متوقع ہوتا ہے کیونکہ وہ کمپنیوں کی مستقبل کی آمدنی کی توقعات کو ظاہر کرتی ہیں، لیکن کموڈیٹی مارکیٹس بنیادی طور پر حقیقی اور جسمانی اثاثوں پر مبنی ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تیل کی پیداوار کے لیے خام تیل نکالنے، منتقل کرنے اور ریفائن کرنے میں وقت لگتا ہے، جبکہ سونا، چاندی اور تانبا کانوں سے نکالنے، پراسیس کرنے اور مارکیٹ تک پہنچانے کے مراحل سے گزرتے ہیں، جن میں دنوں، ہفتوں یا مہینوں کا وقت لگ سکتا ہے۔

تاہم موجودہ دور میں کموڈیٹی مارکیٹس اسٹاک مارکیٹس کی طرح تیزی سے حرکت کرتی نظر آ رہی ہیں۔ کسی سیاسی بیان، فوجی حملے، جنگ بندی کے اعلان یا حتیٰ کہ غیر مصدقہ خبر کے باعث تیل، سونے، چاندی اور تانبے کی قیمتیں چند منٹوں میں تیزی سے اوپر یا نیچے جا سکتی ہیں، جبکہ اس دوران حقیقی پیداوار، ذخائر یا کھپت میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی۔

ماہر کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ کیا کموڈیٹی قیمتیں اب بھی حقیقی سپلائی اور ڈیمانڈ کی عکاسی کر رہی ہیں یا پھر ان پر قیاس آرائی پر مبنی مالیاتی تجارت کا غلبہ بڑھ گیا ہے؟

حقیقی مارکیٹ اور مالیاتی مارکیٹ میں فرق:

تیل کی پیداوار میں تبدیلی آنے میں ہفتے یا مہینے لگتے ہیں، لیکن قیمتیں چند منٹوں میں 5 سے 10 فیصد تک بدل سکتی ہیں۔

سونے کی کانوں سے پیداوار بتدریج بڑھتی یا کم ہوتی ہے، مگر قیمتیں چند گھنٹوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔

تانبے کی سپلائی کا انحصار کان کنی اور ترسیل کے نظام پر ہوتا ہے، لیکن فیوچر مارکیٹس خبروں پر فوری ردعمل دیتی ہیں۔

حقیقی صارفین کی طلب وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہے، جبکہ مالیاتی تاجر ملی سیکنڈز میں فیصلے کرتے ہیں۔

فیوچر انڈسٹری ایسوسی ایشن کے مطابق 2023 میں عالمی ایکسچینج ٹریڈڈ ڈیریویٹو کنٹریکٹس کی تعداد ریکارڈ 137 ارب تک پہنچ گئی، جبکہ بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے اندازے کے مطابق اوور دی کاؤنٹر (OTC) کموڈیٹی ڈیریویٹو مارکیٹ کی مالیت تقریباً 3 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کموڈیٹی سے منسلک مالیاتی معاہدوں کا حجم اب حقیقی طور پر خرید و فروخت ہونے والی اشیاء سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ہیج فنڈز، الگورتھمک ٹریڈرز اور ہائی فریکوئنسی ٹریڈنگ کمپنیاں عام طور پر حقیقی اشیاء کے بجائے مالیاتی معاہدوں کی تجارت کرتی ہیں، جن کے فیصلے اکثر اس وقت سامنے آ جاتے ہیں جب اصل فزیکل مارکیٹ میں کوئی تبدیلی بھی نہیں آئی ہوتی۔

ماہرین کے مطابق قیاس آرائی مارکیٹ میں لیکویڈیٹی اور قیمتوں کے تعین میں مدد دیتی ہے، لیکن جب مالیاتی سرمایہ حقیقی بنیادی عوامل پر حاوی ہو جائے تو قیمتیں عارضی خبروں کے بجائے اصل طلب و رسد سے دور ہو سکتی ہیں۔

کموڈیٹی ایکسچینجز کے لیے تجویز دی گئی ہے کہ وہ غیر معمولی جغرافیائی سیاسی حالات میں قیمتوں کے شدید اتار چڑھاؤ کو محدود کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات متعارف کرائیں، بڑے اعلانات سے قبل غیر معمولی تجارت کی نگرانی بڑھائیں اور الگورتھمک ٹریڈنگ میں زیادہ شفافیت یقینی بنائیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مقصد مارکیٹس کو روکنا نہیں بلکہ ان میں توازن بحال کرنا ہے، کیونکہ کموڈیٹی کی قیمتوں کا بنیادی تعلق پیداوار، ذخائر، نقل و حمل اور کھپت سے ہونا چاہیے، نہ کہ صرف اس رفتار سے جس سے الگورتھم کسی خبر پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔