اسلام آباد: جولائی 2026 میں بجلی کی پیداوار 7 فیصد اضافے سے 15 ہزار 122 گیگا واٹ آور رہی جو 35 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ جولائی میں بجلی کی پیداوار ماہانہ بنیاد پر بھی 13 فیصد بڑھ گئی۔
جولائی میں بجلی کی فی یونٹ فیول لاگت 38 فیصد اضافے سے 10 روپے 70 پیسے رہی جب کہ بجلی کی فیول لاگت ماہانہ بنیاد پر 20 فیصد بڑھ گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں نیوکلیئر ذرائع سے ایک ہزار 527 گیگا واٹ آور بجلی پیدا ہوئی، نیوکلیئر بجلی کی پیداوار سالانہ بنیاد پر 9 فیصد بڑھ گئی۔
جولائی میں گیس سے 990 گیگا واٹ آور بجلی پیدا ہوئی، گیس سے بجلی کی پیداوار سالانہ بنیاد پر 9 فیصد کم رہی۔ ونڈ پاور سے 682 گیگا واٹ آور بجلی پیدا ہوئی جس میں سالانہ بنیاد پر 15 فیصد اضافہ ہوا۔
فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار 99 فیصد اضافے سے 215 گیگا واٹ آور رہی جب کہ بیگاس سے بجلی کی پیداوار 106 گیگا واٹ آور رہی جس میں سالانہ بنیاد پر 130 فیصد اضافہ ہوا۔
جولائی میں سولر بجلی کی پیداوار 56 فیصد کمی سے 46 گیگا واٹ آور رہی۔ ہائیڈل بجلی کا ملکی فیول مکس میں حصہ 39.8 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
ملکی فیول مکس میں درآمدی کوئلے سے بجلی کا حصہ 14.3 فیصد اور مقامی کوئلے کا حصہ 10.9 فیصد رہا جب کہ نیوکلیئر بجلی کا حصہ 10.1 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
آر ایل این جی سے بجلی کی پیداوار کا ملکی فیول مکس میں حصہ 10.8 فیصد رہا، گیس سے بجلی کا حصہ 6.5 فیصد جب کہ ونڈ پاور کا حصہ 4.5 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔



















