بحریہ ٹاؤن کی پراپرٹیز کی نیلامی کے نوٹس کے خلاف درخواست پر سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی فائل چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو بھیج دی جبکہ نیب نے بحریہ ٹاؤن کی پانچ پراپرٹیز کی کل 7 جولائی کو نیلامی کیلئے نوٹس جاری کررکھا ہے۔
جسٹس ارباب محمد طاہرکا کہنا تھا کہ میں نے یہ کیس پہلے انٹراکورٹ اپیل میں سن رکھا ہے، انہوں نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پہلے رٹ پٹیشن فائل کی تھی؟
وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہماری پہلی رٹ پٹیشن پر پہلے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے فیصلہ کیا تھا۔
عدالت نے روسٹرم پر کھڑے نیب پراسکیوٹر سے استفسار کیا کہ آپ کیوں کھڑے ہیں؟ آپ کو تو ابھی نوٹس نہیں ہے، جس پر نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود نے کہا کہ عدالت اگر حکم کرے گی تو میں معاونت کروں گا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ کیا پہلے انٹراکورٹ اپیل دائر ہوئی تھی؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہ کیس سپریم کورٹ میں زیرالتواء ہے، اُس میں بھی یہی استدعا کی گئی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے وہ درخواست مسترد کر دی تھی۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ چیف جسٹس آج موجود ہیں، ہم یہ کیس ان کے سامنے فکس کرتے ہیں، ہم فائل بھیج رہے ہیں آج ہی آپ کی درخواست پر سماعت ہو جائے گی، چیف جسٹس پہلے بھی اس متعلق کیس سن چکے ہیں مناسب ہوگا وہی سنیں۔




















