Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بشریٰ بی بی کو جیل میں ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گزر گیا، اہم رپورٹ سامنے آگئی

اڈیالہ جیل میں کسی بھی قیدی بشمول بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ میں سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیے جانے کے الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بشریٰ بی بی کو جیل میں ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے تاہم انہیں قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا۔

 جیل حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی جیلوں میں قیدِ تنہائی کا نظام تقریباً ختم ہو چکا ہے اور عدالتیں بھی طویل عرصے سے ایسی سزا نہیں دے رہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں کسی بھی قیدی بشمول بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا گیا۔ بشریٰ بی بی سزا یافتہ قیدی ہیں اور قانون کے مطابق اپنی سزا کاٹ رہی ہیں جبکہ ان کے ساتھ دیگر قیدیوں کی طرح قانونی تقاضوں کے مطابق برتاؤ کیا جا رہا ہے۔

جیل حکام کے مطابق بشریٰ بی بی کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی یا غیر مساوی سلوک نہیں کیا جا رہا تاہم سابق وزیراعظم کی اہلیہ ہونے کے باعث ان کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، اسی مقصد کے تحت عام خواتین قیدیوں کو ان کے رہائشی حصے تک رسائی نہیں دی جاتی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے اس الزام کے برعکس بشریٰ بی بی کو مقررہ سہولیات حاصل ہیں۔ انہیں ایک بڑے کمرے، علیحدہ صحن اور الگ باورچی خانے پر مشتمل احاطہ فراہم کیا گیا ہے جہاں وہ دن کے اوقات میں آزادانہ نقل و حرکت کر سکتی ہیں جبکہ رات کے مقررہ وقت پر جیل قواعد کے مطابق کمرہ بند کردیا جاتا ہے۔

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ بشریٰ بی بی کی بیٹی کی جانب سے دائر درخواست کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کیا جائے۔

متعلقہ خبریں