انفلوئنسر فریحہ فاروخ حالیہ دنوں میں پاکستان میں سوشل میڈیا پر اس وقت وائرل ہوئیں جب ان کے دیسی کھانوں کے بارے میں دیے گئے بیانات نے خاصی بحث چھیڑ دی۔
انہوں نے اپنے انٹرویوز میں کچھ متنازع باتیں کیں جن میں روایتی پاکستانی کھانوں کو ناپسند کرنے، مہنگے کاسمیٹک طریقۂ علاج کو ترجیح دینے اور اپنے پس منظر سے متعلق مختلف دعوے شامل تھے۔
ان کے لہجے اور انداز پر بھی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ردِعمل سامنے آیا جس کے بعد وہ میمز اور آن لائن گفتگو کا مرکز بن گئیں۔
اسی حوالے سے حال ہی میں معروف مصنف خلیل الرحمان قمر سے بھی سوال کیا گیا جس پر انہوں نے سخت انداز میں تبصرہ کیا۔
ایک انٹرویو کے دوران جب خلیل الرحمان قمر سے ایسے بیانات اور سوشل میڈیا رجحانات پر رائے پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ ایسے موضوعات کو سنجیدہ گفتگو کا حصہ نہیں بنانا چاہیے اور ان کے مطابق معاشرے میں پھیلنے والی اس نوعیت کی باتوں کو ریاستی سطح پر دیکھنے اور کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ محض بحث یا تنقید سے ایسے رجحانات کا خاتمہ ممکن نہیں ہوتا۔
View this post on Instagram

















