ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ زیادہ میٹھے اور غیر صحت مند خوراک کا استعمال دماغ کی یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے اور صرف خوراک بہتر کرنے سے یہ اثرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے۔
تحقیق کے مطابق ماضی میں کیے گئے تجربات سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ زیادہ چکنائی اور زیادہ شوگر والی خوراک دماغی کارکردگی کو متاثر کرسکتی ہے تاہم یہ واضح نہیں تھا کہ اگر خوراک بہتر کردی جائے تو کیا دماغ مکمل طور پر اپنی حالت میں واپس آسکتا ہے یا نہیں۔
اس نئے مطالعے میں سائنسدانوں نے چوہوں اور دیگر جانوروں پر کی گئی 27 مختلف تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا تاکہ یہ سمجھا جاسکے کہ غیر صحت مند خوراک کے بعد صحت مند خوراک اپنانے سے دماغی کارکردگی پر کیا اثر پڑتا ہے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جب جانوروں کو زیادہ شوگر اور چکنائی والی خوراک کے بعد بہتر خوراک دی گئی تو ان کی یادداشت میں بہتری تو آئی لیکن یہ بہتری مکمل طور پر اس سطح تک نہیں پہنچی جو ہمیشہ صحت مند خوراک لینے والے جانوروں میں دیکھی گئی۔
تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ خوراک کی تبدیلی کے بعد کچھ دماغی افعال میں بہتری آتی ہے، خاص طور پر یادداشت سے متعلق صلاحیتوں میں لیکن دیگر ذہنی افعال جیسے رویہ اور جذبات میں واضح بہتری سامنے نہیں آئی۔
ماہرین کے مطابق دماغ کا وہ حصہ جو یادداشت اور سیکھنے سے متعلق ہے، جسے خاص طور پر اہم سمجھا جاتا ہے اور وہ خوراک کے اثرات سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ زیادہ میٹھا اور غیر صحت مند کھانا اس حصے کی کارکردگی کو کمزور کرسکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق اگرچہ خوراک بہتر کرنا فائدہ مند ہے لیکن اگر طویل عرصے تک زیادہ شوگر والی خوراک استعمال کی جائے تو اس کے اثرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے۔ اس لیے صرف بعد میں بہتری پر انحصار کافی نہیں ہوتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر دماغی صحت کے لیے ضروری ہے کہ شروع ہی سے متوازن اور صحت مند خوراک اختیار کی جائے اور زیادہ شوگر والی اشیا کے استعمال کو محدود رکھا جائے۔
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ انسانوں میں خوراک کے اثرات مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں کیونکہ اس میں روزمرہ زندگی، ورزش اور ذہنی کیفیت جیسے عوامل بھی شامل ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دماغی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے صرف بعد میں اصلاح کافی نہیں بلکہ پہلے سے احتیاط ضروری ہے۔




















