برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدان ایک نئی ویکسین تیار کررہے ہیں جو خطرناک ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ویکسین آئندہ دو سے تین ماہ میں ابتدائی طبی آزمائشوں کے لیے تیار ہوسکتی ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وسطی افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کا نیا پھیلاؤ جاری ہے جس کے باعث سیکڑوں مشتبہ کیسز اور متعدد اموات رپورٹ ہوچکی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے اس صورتحال کو انتہائی تشویش ناک قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ پھیلاؤ ایبولا کی ایک نایاب قسم سے ہے جس کے لیے اب تک کوئی مؤثر ویکسین موجود نہیں۔ اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں شرح اموات بھی کافی زیادہ ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویکسین کی کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں تاہم ہنگامی صورتحال کے پیش نظر اس پر تیزی سے کام کیا جارہا ہے تاکہ اگر بیماری مزید پھیل جائے تو فوری طور پر اسے استعمال کیا جاسکے۔
تحقیق کے مطابق یہ ویکسین ایک جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہے جو پہلے کورونا وائرس کی ویکسین میں بھی استعمال کی گئی تھی۔ اس طریقہ کار میں ایک محفوظ وائرس کے ذریعے جسم کے مدافعتی نظام کو بیماری کے خلاف تربیت دی جاتی ہے۔
اس عمل میں وائرس کو بیماری پیدا کرنے کے بجائے جسم کو پہچاننے اور دفاع کرنے کی تربیت دی جاتی ہے جس سے انسان کا مدافعتی نظام مضبوط ہوجاتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق ابھی تک جانوروں پر اس ویکسین کے مؤثر ہونے کے واضح شواہد مکمل نہیں ہوئے تاہم ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں اور مزید تحقیق جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو ویکسین جلد انسانی آزمائشوں کے مرحلے میں داخل ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد اس کی بڑے پیمانے پر تیاری کے لیے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔
برطانوی محققین کے مطابق اس منصوبے میں بین الاقوامی سطح پر تعاون بھی شامل ہے تاکہ ویکسین کو ضرورت کے وقت تیزی سے متاثرہ علاقوں تک پہنچایا جاسکے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن احتیاطی اقدامات اور بروقت طبی تحقیق ہی مستقبل میں بڑے بحران سے بچاؤ کا واحد راستہ ہیں۔




















