آنکھوں میں خارش کی صورت میں سب ہی اسے سہلانے یا رگڑنے لگتے ہیں تاہم یہ عام سا عمل آنکھوں کو کئی طرح سے نقصان پہنچاتا ہے۔
اگرچہ آنکھوں کورگڑنا بظاہر بے ضرر لگتا ہے تاہم ایسا کرنے سے آنکھوں کے انفیکشن یا قرنیہ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
آنکھیں رگڑنے سے جنم لینے والے مسائل
قرنیہ پر خراش
آنکھ کو زور سے رگڑنے یا ناخن لگ جانے سے قرنیہ کی سطح پر خراش آ سکتی ہے جوکہ انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے اور اکثر دھندلی بینائی کا باعث بنتی ہےاس کے علاج کے لیے اینٹی بایوٹک ادویات دی جاتی ہیں تاکہ انفیکشن سے بچا جاسکے
سبکنجنکٹیول ہیمرج
آنکھیں رگڑنے سے آنکھ کی سطح پر موجود خون کی باریک نالیاں پھٹ سکتی ہیں جس سے آنکھ کا سفید حصہ سرخ ہو جاتا ہےاگرچہ یہ اکثر خطرناک نہیں ہوتا لیکن ظاہری طور پر کافی پریشان کن لگ سکتا ہے۔
خارش سے نجات کیسے حاصل کریں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ خارش کی صورت میں ایسے تمام آئی ڈراپس سے گریز کرنا چاہیے جو سرخی ختم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں کیونکہ یہ وقتی آرام تو دیتے ہیں لیکن بعض مضر اثرات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
کول کمپریس خارش کم کرنے اور آنکھیں رگڑنے کی خواہش میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں اگر پھر بھی آرام نہ آئے تو الرجی کے آئی ڈراپس استعمال کیے جا سکتے ہیں جو نسخے کے ساتھ یا بغیر بھی دستیاب ہوتے ہیں۔
معالج سے کب رابطہ کریں
اگر مصنوعی آنسو کول کمپریس یا اوور دی کاؤنٹر الرجی آئی ڈراپس استعمال کرنے کے باوجود آنکھوں کی خارش برقرار رہے اور آپ کو بار بار آنکھیں رگڑنے کی خواہش ہو تو ماہر امراض چشم سے معائنہ کروانا ضروری ہے۔




















