نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ابراہیمی معاہدے میں پاکستان کی شمولیت سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں اور پاکستان فلسطین کے معاملے پر اپنے اصولی مؤقف پر بدستور قائم ہے۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ جب تک 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت تسلیم نہیں کیا جاتا، پاکستان اپنے مؤقف میں کسی قسم کی نرمی یا لچک نہیں دکھائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے اور دنیا میں امن کے فروغ کا حامی رہا ہے اور ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل میں بھی مثبت اور تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان ابتدائی رابطوں اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان کا عالمی تشخص مزید مضبوط ہوا ہے جبکہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ان کی ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں پاکستان کے سفیر اور دفتر خارجہ کے دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
فلسطین اور کشمیر کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان دونوں معاملات پر اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے بعد سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کو بھی ابراہیمی معاہدے کا حصہ بننا چاہیے۔
















