رات کے اوقات میں مسلسل کام کرنے والے افراد کے دماغ پر منفی اثرات مرتب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ماہرین کی نئی تحقیق کے مطابق رات کی ڈیوٹی دماغ کے بعض اہم حصوں کے حجم میں کمی کا سبب بن سکتی ہے تاہم ملازمت چھوڑنے کے بعد یہ اثرات کسی حد تک کم بھی ہوسکتے ہیں۔
سنگاپور کے ماہرینِ اعصاب نے برطانیہ کے 14 ہزار سے زائد درمیانی اور زیادہ عمر کے صحت مند افراد کے طبی اور دماغی جائزوں کا مطالعہ کیا۔ تحقیق میں شامل 2 ہزار سے زائد ایسے افراد تھے جو رات کی شفٹ میں کام کرتے رہے ہیں۔
تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ رات کی ڈیوٹی کرنے والوں کے دماغ کے ان حصوں میں معمولی کمی دیکھی گئی جو نیند، یادداشت، توجہ اور جذبات کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دماغ کے جس حصے میں کمی دیکھی گئی وہ معلومات کو منتقل کرنے اور یادداشت بحال رکھنے سے متعلق ہے جب کہ ایک اور حصہ جذباتی ردعمل کو منظم کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد میں ذہنی تھکن، چڑچڑاپن، نیند کی خرابی اور یادداشت کے مسائل زیادہ دیکھے جاتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جن افراد نے رات کی ڈیوٹی چھوڑ دی تو ان کے دماغ میں تقریباً ڈھائی سال کے اندر جزوی بہتری دیکھی گئی تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کے انسانی صحت پر مکمل اثرات جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق مسلسل بدلتے اوقاتِ کار جسمانی گھڑی کو متاثر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں نیند، خوراک اور ذہنی توازن کے نظام پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
تحقیقی ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ دور میں غیر روایتی اوقات میں کام کرنے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے، اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ رات کی ڈیوٹی طویل مدت میں دماغ اور ذہنی صحت پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے۔




















