پاکستان کے عدالتی نظام میں جدید اصلاحات کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں چیف جسٹس پاکستان نے وکلا کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے قومی سطح پر ای-کورس کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
اس نئے آن لائن پروگرام کے تحت ملک بھر کے وکلا اب گھر بیٹھے قانونی تربیت حاصل کر سکیں گے جس کا مقصد نوجوان وکلا کو جدید عملی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ قانونی تعلیم اور تربیت کو ٹیکنالوجی کے ذریعے ہر وکیل تک پہنچایا جائے تاکہ انصاف کے نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔
یہ ای-کورس پاکستان بار کونسل اور فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے جس میں 10 مختلف ماڈیولز اور 40 کریڈٹ آورز شامل کیے گئے ہیں۔
عدالتی ذرائع کے مطابق یہ پروگرام بار ووکیشنل کورس (BVC) کی ایک ہفتے کی لازمی شرط کے برابر تصور کیا جا رہا ہے جبکہ بار کونسلز نے اسے ایک خوش آئند اور بروقت قدم قرار دیا ہے۔
وکلا نمائندوں نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ اس ای-کورس کو دو ہفتے کے بار ووکیشنل کورس کا مکمل متبادل بھی بنایا جائے تاکہ طلبا اور نوجوان وکلا کو مزید سہولت مل سکے۔
چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ عدالتی اصلاحات کے ایجنڈے میں قانونی تعلیم اور تربیت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور مقصد ایک ایسا انصاف کا نظام بنانا ہے جو عوام کے لیے زیادہ شفاف، تیز اور قابلِ رسائی ہو۔



















