یہ بات سب ہی جانتے ہیں ڈی این اے میں کسی طرح بھی تبدیلی نہیں کی جاسکتی تاہم سبزی جاتی غذائیں کھانا محض 4 ہفتوں میں ان کے کام کے انداز کو ضرور بدل سکتا ہے یہ بات حال ہی میں کی جانے والی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق جب صحت مند افراد نے ایک ماہ تک سبزی جاتی غذا استعمال کی تو ان کے ڈی این اے کے ساتھ جڑی کچھ کیمیائی علامات میں تبدیلیاں پیدا ہوئیں جن کا تعلق جسم میں سوزش میں کمی، میٹابولزم میں تبدیلی اور جسمانی عمر بڑھنے کی رفتار سست ہونے سے تھا۔
ایپی جینوم جینز کو کیسے کنٹرول کرتا ہے؟
اس تحقیق میں سائنس دانوں نے ایپی جینوم پر توجہ دی سادہ الفاظ میں ایپی جینوم جسم کا ایسا نظام ہے جو خلیوں کو یہ طے کرنے میں مدد دیتا ہے کہ کون سا جین زیادہ کام کرے اور کون سا کم یہ نظام ہمارے ڈی این اے کے بنیادی کوڈ کو تبدیل نہیں کرتا بلکہ ڈی این اے پر اضافی ہدایات کی طرح کام کرتا ہے۔
محققین نے اس مقصد کے لیے 48 صحت مند بالغ افراد کے خون کے نمونے لیے۔ سب سے پہلے تمام افراد کو ایک ہفتے تک ایک جیسی اور مقررہ غذا استعمال کروائی گئی۔ اس کے بعد انہیں دو گروپوں میں تقسیم کر دیا گیا ایک گروپ کو ایک ماہ تک سبزی جاتی غذا جبکہ دوسرے گروپ نے گوشت سے بھرپور غذا استعمال کرنے کا کہاگیا، اور دونوں غذاؤں میں تقریباً برابر کیلوریز رکھی گئیں۔
محققین نے تجربے سے پہلے اور بعد میں پورے جینوم میں موجود 8 لاکھ سے زیادہ ڈی این اے میتھائلیشن مقامات کا جائزہ لیا۔
نتائج حیران کن تھے سبزی کھانے والے افراد میں جسم میں سوزش کم ہونے کے ساتھ مدافعتی نظام میں بہتری نوٹ کی گئی اس کے علاوہ چربی اور شوگر کے میٹابولزم پر مثبت اثر دیکھا گیا جبکہ بعض تبدیلیا حیاتیاتی عمر بڑھنے کے عمل کو سست کرنے سے متعلق تھیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہماری خوراک صرف وزن یا معدے کو ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ جسم کے اندر جینز کے کام کرنے کے طریقے پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔
تاہم یہ تحقیق صرف 48 افراد پر کی گئی ہے اور صرف 4 ہفتے جاری رہی۔ اس لیے ابھی یہ کہنا درست نہیں کہ سبزی جاتی غذا لازماً عمر بڑھاتی ہے یا بیماریوں سے بچاتی ہے اس کے لیے مزید بڑی اور طویل مدتی تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ تبدیلیاں کتنی دیر رہتی ہیں اور صحت پر ان کا حقیقی فائدہ کتنا ہے۔




















