دنیا بھر کے والدین بچوں میں بڑھتے ہوئے اسکرین ٹائم اور سوشل میڈیا کے استعمال سے نہ صرف پریشان ہیں بلکہ اس سے چھٹکارے کے لیے بھی کئی طرح کے طریقے استعمال کر رہے ہیں۔
ایک امریکی سروے کے مطابق 83 فیصد والدین کا خیال ہے کہ اسکرین سے بچوں کی ذہنی صحت بگڑ رہی ہے اور تقریباً تین چوتھائی والدین نے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک آلات کے استعمال کو نوجوانوں کے لیے بڑا مسئلہ قرار دیا ہے۔
صحت اور سائنس کی صحافی کیتھرین پرائس جو 10 سالہ بیٹی کی والدہ ہیں کا کہنا ہے کہ بچوں کا اسکرین کے سامنے گزارا ہوا وقت انہیں حقیقی مہارتیں، تعلقات اور عملی تجربات حاصل کرنے سے دور کر سکتا ہے۔
پرائس نے ماہر نفسیات اور مصنف جوناتھن ہائیڈٹ کے ساتھ مل کر بچوں اور نوعمروں میں سکرین اور سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق ایک کتاب بھی تحریر کی ہے۔ کتاب میں والدین کے لیے بچوں کے سکرین ٹائم کو محدود کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز دی گئی ہیں، جن میں تین اہم مشورے درج ذیل ہیں:
والدین خود اچھا نمونہ بنیں
ماہرین کے مطابق بچوں کے رویوں پر والدین کی اپنی عادات کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ پرائس کا کہنا ہے کہ اگر والدین چاہتے ہیں کہ بچے فون اور دیگر آلات کا کم استعمال کریں تو انہیں خود بھی اپنی سکرین کی عادات بہتر بنانا ہوں گی۔
والدین بچوں کو یہ بھی اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ انہیں فون یا کمپیوٹر کے ضرورت سے زیادہ استعمال پر متوجہ کریں۔ اس طرح بچے نہ صرف ذمہ داری کا احساس سیکھتے ہیں بلکہ والدین کے عملی نمونے سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔
ہر بچے کو الگ فون دینے کے بجائے فیملی فون استعمال کریں
پرائس بچوں کو کم عمری میں ذاتی سمارٹ فون دینے کے بجائے مشترکہ فیملی فون استعمال کرنے کی تجویز دیتی ہیں۔ ان کے مطابق لینڈ لائن یا سادہ موبائل فون بچوں میں براہِ راست گفتگو اور سماجی رابطے کی مہارتیں پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
بچے اس فون کے ذریعے دادا دادی، رشتہ داروں یا دوستوں سے بات کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اسکول کے بعد یا دوستوں سے ملنے کے لیے ایک سادہ فیملی فون انہیں دیا جا سکتا ہے، جسے استعمال کے بعد واپس کر دیا جائے۔
اسمارٹ فون کی مالی ذمہ داری بچوں کو سکھائیں
پرائس بچوں کے لیے سمارٹ فون خریدنے کو کم از کم 16 سال کی عمر تک مؤخر کرنے کی حمایت کرتی ہیں۔ ماہر نفسیات جین ٹوینگ بھی اسی طرح کی سفارش کر چکی ہیں۔
والدین اگر سمارٹ فون دینے میں مزید تاخیر کرنا چاہیں تو بچوں سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس کی قیمت خود جمع کریں۔ ماہرین کے مطابق اس طریقے سے بچے نہ صرف فون کی قدر اور مالی ذمہ داری سمجھ سکتے ہیں بلکہ کسی مقصد کے حصول کے لیے محنت اور بچت کی اہمیت بھی سیکھ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سکرین ٹائم کم کرنے کے لیے صرف پابندیاں عائد کرنا کافی نہیں، بلکہ والدین کو خود بھی ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویے اپنانے اور بچوں کو حقیقی زندگی کی سرگرمیوں، تعلقات اور تجربات کے لیے زیادہ وقت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔




















