ایک انتہائی منفرد تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پولی ایتھیلین نامی عام پلاسٹک کے بہت چھوٹے ذرات، جنہیں مائیکرو پلاسٹکس کہا جاتا ہے، ممکنہ طور پر فیٹی لیور کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔
پولی ایتھیلین دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پلاسٹک میں سے ایک ہے یہ کھانے کی پیکنگ، پلاسٹک ریپ، اسٹوریج ڈبوں اور مختلف ڈسپوزایبل چیزوں میں استعمال ہوتا ہے۔
فیٹی لیور کیا ہے؟
اس مرض میں جگر پر غیرمعمولی چکنائی جمع ہوجاتی ہے جس سے خون میں لوتھڑے بننے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اور یہاں تک کہ جگر کی مختلف بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
اگر بیماری بڑھ جائے تو جگر میں سوزش پیدا ہو سکتی ہے، پھر زخم یا داغ بن سکتے ہیں اور شدید صورت میں جگر کو مستقل نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جگر پر جمی چکنائی (فیٹی لیور) کے اسباب اور علاج
فیٹی لیور کا خطرہ خاص طور پر ان افراد میں زیادہ ہوتا ہے جن کا وزن اور پیٹ کے گرد چربی زیادہ ہو، خون میں چربی یا کولیسٹرول سطح بلند ہو اور شوگر،پری ڈائبیٹیز یا بلڈ پریشر زیادہ ہو۔
یہ جاننے محققین نے چوہوں پر ایک تجربہ کیا اس مقصد کے لیے محققین نے 20 نر چوہوں کو چار گروپوں میں تقسیم کیا۔ کچھ کو عام خوراک دی گئی جبکہ کچھ کو ایسی خوراک دی گئی جس میں چربی، چینی اور کولیسٹرول زیادہ تھا جو فیٹی لیور جیسی امراض کا سبب بن سکتی ہے۔
اس کے علاوہ دو گروپوں کے پانی میں روزانہ پولی ایتھیلین کے انتہائی چھوٹے ذرات بھی شامل کیے گئے۔ یہ ذرات صرف 10 سے 150 نینو میٹر کے تھے 8 ہفتے تک جاری رہنے والے اس تجربے کے نتائج پریشان کن تھے۔
جن چوہوں کو پلاسٹک کے ذرات دیے گئے، ان کے جگر میں نقصان کی کچھ علامات زیادہ دیکھی گئیں جیسے جگر کے ایک اہم انزائم اے ایل ٹی کی مقدار، چربی اورجگر کے خلیوں میں سوزش میں اضافہ دیکھا گیا جبکہ جگر کے خلیوں میں غیر معمولی تبدیلیاں زیادہ نظر آئیں۔
اہم بات یہ تھی کہ یہ اثر صرف خراب خوراک لینے والے چوہوں میں نہیں دیکھا گیا بلکہ عام خوراک لینے والے چوہوں میں بھی مائیکرو پلاسٹکس کے باعث جگر پر منفی اثرات کے آثار نظر آئے۔
محققین نے یہ بھی دیکھا کہ مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی میں جگر کے کچھ ایسے جین زیادہ فعال ہو گئے جو جگر میں چربی بنانے اور جگر کے ٹشوز کی مرمت سے متعلق تھے۔
یہ بات بہت اہم ہے کہ یہ تحقیق انسانوں پر نہیں بلکہ چوہوں پر کی گئی ہے تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ پلاسٹک کھانے یا پلاسٹک کے ذرات کے جسم میں جانے سے انسان میں بھی فیٹی لیور ہوسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔




















