والدین بننے کا تجربہ صرف زندگی کے معمولات اور جذبات میں تبدیلی نہیں لاتا بلکہ ممکنہ طور پر دماغی صحت پر بھی طویل مدتی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق حمل کے آغاز ہی سے خواتین کے دماغ میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہو جاتی ہیں، جبکہ والد بننے والے افراد کے دماغ میں بھی ایسے تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں جو بچوں کی دیکھ بھال سے متعلق ذمہ داریوں سے مطابقت پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
نیو سائنٹسٹ کے مطابق ماہرینِ اعصاب کا کہنا ہے کہ والدین بننے کے مرحلے کے دوران دماغ کی ساخت اور افعال میں تبدیلیاں آ سکتی ہیں، جن کے نتیجے میں بچوں کی ضروریات پر توجہ، ہمدردی اور فوری ردعمل کی صلاحیت بہتر ہو سکتی ہے۔
دماغ میں تبدیلیاں کیوں آتی ہیں؟
ماضی میں حمل اور والدین بننے کے دوران دماغی تبدیلیوں کو عام طور پر “مَمز برین” کہا جاتا تھا اور انہیں زیادہ تر بھولنے، توجہ میں کمی یا نیند پوری نہ ہونے سے پیدا ہونے والی تھکن سے جوڑا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: دماغ کو عمر بھر جوان رکھنے کا راز، اب آپ کے ہاتھ
تاہم جدید تحقیق اس تصور کو زیادہ پیچیدہ قرار دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق حمل کے ابتدائی مراحل ہی سے دماغ کے بعض حصوں میں گرے میٹر کی کثافت میں کمی دیکھی جا سکتی ہے۔
محققین کے مطابق یہ تبدیلی لازماً دماغی کارکردگی میں کمی کی علامت نہیں بلکہ اعصابی رابطوں کی ازسرِنو تنظیم کا حصہ ہو سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں دماغ بچے کی دیکھ بھال سے متعلق نئی ضروریات کے مطابق خود کو زیادہ مخصوص اور مؤثر انداز میں ڈھال سکتا ہے۔
یہ تبدیلیاں یادداشت، توجہ اور سماجی روابط جیسے ذہنی افعال سے بھی منسلک ہو سکتی ہیں۔
فوائد صرف ماؤں تک محدود نہیں
والدین بننے کے ممکنہ دماغی فوائد صرف ماؤں تک محدود نظر نہیں آتے۔ یاہو کی جانب سے شائع کیے گئے ایک حالیہ تحقیقی جائزے کے مطابق جن افراد کے بچے تھے، ان کے دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان باہمی رابطہ ان افراد کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پایا گیا جن کی اولاد نہیں تھی۔
ماہرین کے مطابق دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان مضبوط رابطہ بہتر ادراکی صلاحیت، یادداشت اور مجموعی ذہنی کارکردگی سے وابستہ ہو سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی مشاہدہ کیا گیا کہ بچوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ دماغی رابطوں سے متعلق بعض مثبت اشاریے بھی زیادہ نمایاں تھے۔
بڑھاپے میں دماغی صحت سے ممکنہ تعلق
محققین نے خاص طور پر دماغ کے ان حصوں میں زیادہ نمایاں فرق دیکھا جو حرکت، احساس اور سماجی روابط سے متعلق ہیں۔
یہ وہ دماغی افعال ہیں جن میں عمر بڑھنے کے ساتھ کمی واقع ہو سکتی ہے۔ والدین میں ان حصوں کے درمیان نسبتاً مضبوط رابطے کی موجودگی اس امکان کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ والدین بننے سے متعلق سرگرمیاں عمر کے ساتھ دماغی کارکردگی کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
تاہم ماہرین اس نتیجے کو محتاط انداز میں دیکھنے پر زور دیتے ہیں۔
بچوں کی دیکھ بھال، دماغ کے لیے مسلسل مشق؟
محققین کے مطابق والدین کی روزمرہ زندگی خود دماغ کے لیے ایک مسلسل ذہنی اور جسمانی مشق بن سکتی ہے۔
بچوں کی سرگرمیوں اور ملاقاتوں کی منصوبہ بندی، ایک وقت میں کئی کام سنبھالنا، روزمرہ کی متعدد تفصیلات یاد رکھنا، بچوں کے جذبات سے نمٹنا اور ان کی دیکھ بھال کے دوران جسمانی طور پر متحرک رہنا ایسے کام ہیں جو دماغ کو مسلسل مصروف رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کی سرگرمیاں دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطوں کو متحرک رکھنے میں کردار ادا کر سکتی ہیں، جس سے وقت گزرنے کے ساتھ بعض ادراکی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
کیا بچے ہونا دماغ کو صحت مند رکھنے کی ضمانت ہے؟
محققین نے واضح کیا ہے کہ موجودہ تحقیق سے والدین بننے اور بہتر دماغی صحت کے درمیان تعلق تو سامنے آتا ہے، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بچے پیدا ہونا ہی ان فوائد کی براہِ راست وجہ ہے۔
ماہرین کے مطابق طرزِ زندگی، سماجی تعاون، خاندانی تعلقات، جسمانی سرگرمی، معاشی حالات اور مجموعی صحت سمیت متعدد دیگر عوامل بھی دماغی صحت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق بچوں کے ساتھ مسلسل سماجی رابطہ، جذباتی وابستگی اور خاندان سے ملنے والی سماجی معاونت والدین کی طویل مدتی دماغی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ والدین بننے اور دماغی صحت کے درمیان اس تعلق کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، خصوصاً یہ جاننے کے لیے کہ ان تبدیلیوں کے پیچھے کون سے حیاتیاتی عوامل کارفرما ہیں اور آیا یہ اثرات واقعی عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی تنزلی کو سست کرتے ہیں یا نہیں۔




















