طویل وقت تک بیٹھنے کو اکثر اس خیال کے ساتھ نظرانداز کیا جاتا ہے کہ اچھی ورزش اس کے منفی اثرات کو زائل کرسکتی ہے، تاہم ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ طویل عرصے تک غیر متحرک رہنے کے قلبی اثرات کو صرف ورزش کے ذریعے ختم کرنا شاید اتنا آسان نہیں۔
ڈلہاؤزی یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے 21 صحت مند نوجوانوں پر تحقیق کی۔ 11 افراد نے 12 ہفتوں تک تیز رفتار ورزش کی، جبکہ 10 افراد نے اپنی معمول کی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
اس تحقیق میں یہ جانچنے کی کوشش کی گئی کہ آیا 12 ہفتوں کی ہائی انٹینسٹی انٹرول ٹریننگ (ایچ آئی ٹی) ٹانگوں کی خون کی شریانوں کو مسلسل دو گھنٹے بیٹھنے کے منفی اثرات کے خلاف زیادہ مزاحمت فراہم کرسکتی ہے یا نہیں۔
محققین نے تربیتی پروگرام سے پہلے اور بعد میں شرکا کا سائیکلنگ ٹیسٹ لیا تاکہ ان کی ایروبک فٹنس میں ہونے والی تبدیلیوں کا اندازہ لگایا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: کھڑکی کے پاس بیٹھنا کس مرض میں مفید ثابت ہوتا ہے؟
اس کے علاوہ الٹراساؤنڈ کے ذریعے شرکا کی پاپلیٹیئل آرٹری کا جائزہ بھی لیا گیا۔ یہ جائزہ مسلسل تقریباً دو گھنٹے بیٹھنے سے پہلے اور بعد میں کیا گیا تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ طویل وقت تک بیٹھنے سے خون کی شریانوں کی کارکردگی پر کیا اثر پڑتا ہے۔
12 ہفتوں کی ورزش کے بعد ان افراد کی جسمانی فٹنس میں واضح بہتری آئی لیکن جب انہیں تقریباً دو گھنٹے مسلسل بٹھایا گیا تو ٹانگوں کی خون کی شریانوں کی کارکردگی پھر بھی متاثر ہوئی۔
محققین نے خاص طور پر گھٹنے کے پیچھے موجود ایک اہم خون کی شریان جسے پاپلیٹیئل آرٹری کہا جاتا ہے کا جائزہ لیا۔ اس شریان کی خون کے بہاؤ کے مطابق پھیلنے کی صلاحیت طویل وقت تک بیٹھنے کے بعد متاثر ہوئی، چاہے فرد کتنا ہی فٹ کیوں نہ ہو۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جن افراد نے اضافی ورزش نہیں کی ان میں بھی طویل وقت تک بیٹھنے کے بعد خون کی شریانوں پر اسی طرح کے منفی اثرات دیکھے گئے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ورزش بے فائدہ ہے۔ ورزش دل اور خون کی شریانوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، لیکن صرف ورزش پر انحصار کرنا کافی نہیں۔
تحقیق کے سینئر مصنف ڈاکٹر ڈیرک کِمرلی کے مطابق بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک بار ورزش کرلینے سے پورا دن بیٹھے رہنے کے نقصانات ختم ہوجاتے ہیں، لیکن ایسا ضروری نہیں۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ ورزش کے ساتھ ساتھ کام کے دوران بھی وقفے وقفے سے اپنی نشست سے اٹھنا، کچھ دیر چلنا پھرنا اور جسم کو حرکت دینا چاہیے۔




















