Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اجے بنگا نے سندھ کے کمیونٹی پر مبنی بحالی ماڈل کو عالمی مثال قرار دے دیا

صدر اجے بنگا نے بہاول جت میں امرود کا یادگار پودا لگایا اور کمیونٹی سینٹر میں خواتین سے ملاقات کی

ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ ایفیکٹیز (SPHF) پروگرام کے تحت تعمیر شدہ گھروں عالمی مثال قرار دے دیا۔

انھوں نے کہا کہ محفوظ گھروں کو صاف پانی، صفائی ستھرائی، بہتر غذائیت اور سماجی شمولیت سے جوڑا جا رہا ہے، جو انسانی سرمائے کی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد ہے۔ انہوں نے سندھ کے کمیونٹی پر مبنی بحالی ماڈل کو عالمی مثال قرار دیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا تعلقہ ڈوکری کے سیلاب متاثرہ گاؤں بہاول جت پہنچ گئے۔ جہاں بہاول جت کے مکینوں نے ورلڈ بینک کے صدر کا پرتپاک استقبال کیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سندھ حکومت اور ورلڈ بینک کے تعاون سے بہاول جت میں 145 سیلاب متاثرہ گھروں کی تعمیر نو مکمل کی گئی ہے، جن میں سے 83 فیصد گھروں کے مالکانہ حقوق خواتین کو دیے گئے ہیں۔

ورلڈ بینک کے صدر نے وزیراعلیٰ سند کے ہمراہ سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ ایفیکٹیز (SPHF) پروگرام کے تحت تعمیر شدہ گھروں کا معائنہ کیا۔ مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ کی خواتین بااختیار ہیں اور سماجی شمولیت میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: عالمی بینک کے صدر اجے بنگا پاکستان پہنچ گئے، 10 سالہ پارٹنرشپ پر پیشرفت متوقع

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیے 21 لاکھ مکانات کی تعمیر سندھ حکومت اور ورلڈ بینک کا تاریخی اقدام ہے اور یہ دنیا کی سب سے بڑی بحالی کوششوں میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیونٹیز کو اپنی زندگیوں کی تعمیر نو کے لیے بااختیار بنایا جا رہا ہے۔

اجے بنگا نے مکانات کی بحالی کے منصوبے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کمیونٹی قیادت میں ہاؤسنگ پروگرام ہے، جس میں خاندان خود گھر تعمیر کرتے ہیں اور آمدن کمیونٹی کے اندر رہتی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق ہر گھر کی تعمیر سے مقامی مزدوروں کو تقریباً 160 دن کی اجرت ملتی ہے اور منصوبے کی لاگت کا 25 فیصد براہِ راست اجرت میں جاتا ہے۔

دورے کے دوران ورلڈ بینک کے صدر مقامی افراد میں گھل مل گئے اور ان کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔ کشمور سے تعلق رکھنے والی ایک سکھ سیلاب متاثرہ فیملی بھی بہاول جت پہنچی، جس کے ساتھ وزیراعلیٰ سندھ اور صدر ورلڈ بینک نے فوٹو بنوایا۔ اجے بنگا نے خواتین میں مالکانہ حقوق کی اسناد بھی تقسیم کیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ SPHF پروگرام کے تحت 15 لاکھ مکانات زیر تعمیر جبکہ 7 لاکھ 50 ہزار مکانات مکمل ہو چکے ہیں، اور 15 لاکھ 50 ہزار سے زائد مستفید افراد کے بینک اکاؤنٹس کھلوائے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب 10 لاکھ سے زائد خواتین زمینی مالکانہ حقوق رکھتی ہیں اور مزید خواتین کو بھی یہ حقوق دیے جائیں گے۔

ورلڈ بینک کے صدر نے بتایا کہ سیلاب متاثرین کے لیے 950 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی گئی، جس میں ابتدائی 500 ملین اور اضافی 450 ملین ڈالر شامل ہیں۔

ان کے مطابق ہر خاندان کو اوسطاً 1400 ڈالر مالیت کے گھر کی تعمیر کے وسائل فراہم کیے گئے ہیں اور پروگرام کا مرکز غریب ترین گھرانے ہیں۔

اجے بنگا نے کہا کہ محفوظ گھروں کو صاف پانی، صفائی ستھرائی، بہتر غذائیت اور سماجی شمولیت سے جوڑا جا رہا ہے، جو انسانی سرمائے کی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد ہے۔ انہوں نے سندھ کے کمیونٹی پر مبنی بحالی ماڈل کو عالمی مثال قرار دیا۔

دورے کے اختتام پر ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے بہاول جت میں امرود کا یادگار پودا لگایا اور کمیونٹی سینٹر میں خواتین سے ملاقات کی، جہاں سندھی ثقافت کے رنگ، اجرک اور سندھی ٹوپی کے تحائف پیش کیے گئے۔

اجے بنگا نے اردو میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مالکانہ حقوق آپ کی آزادی ہیں اور صاف پانی کی فراہمی آپ کی زندگی میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔

متعلقہ خبریں