صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقوں کی جانب سے ایک آئل ٹینکر پر حملے کے بعد اس پر موجود پاکستانی عملے کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے جبکہ حکومتِ پاکستان نے عملے کی محفوظ بازیابی کے لیے سفارتی سطح پر اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق جہاز آنر 5 کو قزاقوں نے نشانہ بنایا جس کے بعد عملے کے بعض ارکان کے یرغمال بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
واقعے کے بعد وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے صومالیہ کے سفیر کو باضابطہ خط لکھ کر فوری تعاون کی درخواست کی ہے۔
وزیر بحری امور کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہریوں کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن سفارتی اور انتظامی اقدام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عملے کی بحفاظت واپسی یقینی بنانے کے لیے متعلقہ ادارے مسلسل رابطے میں ہیں۔
دوسری جانب صومالی حکام نے بھی صورتحال پر نظر رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے وزارت خارجہ صومالیہ کے مطابق واقعے سے متعلق تمام دستیاب معلومات قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ شیئر کر دی گئی ہیں اور پیش رفت سے پاکستان کو باخبر رکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مشترکہ کوششوں سے عملے کی جلد اور محفوظ رہائی ممکن ہو سکے گی۔















