برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان بالا (ہاؤس آف لارڈز) میں ہونے والی ایک اہم بحث کے دوران پاکستان کے سفارتی کردار کو بھرپور انداز میں سراہا گیا۔
لارڈ قربان حسین نے ہاؤس آف لارڈز میں پاکستان کے امن کردار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سفارتکاری سے امریکا ایران جنگ بندی ممکن ہوئی، امن معاہدے کی تفصیلات پر کام جاری ہے۔
انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ میں اپنے بیان میں کہا کہ ہم پاکستان کے شکر گزار ہیں، اقوامِ متحدہ عالمی تنازعات روکنے میں غیر مؤثر ثابت ہوئی۔
انکا کہنا تھا کہ کشمیر تنازع 1948 سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے، کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر آج تک عملدرآمد نہ ہو سکا، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کردار ادا کرے۔
لارڈ قربان حسین نے کہا کہ کشمیر پر بھارت اور پاکستان تین بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں، لائن آف کنٹرول پر ایک غلط اندازہ خطے کو بڑی تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے، 1.7 ارب عوام کے مستقبل کے لیے خطے میں امن و استحکام ضروری ہے، کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ہونا چاہیے۔

















