نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران یورینیم کو ملک سے باہر نہیں بھیجے گا بلکہ اس کی افزودگی کی سطح کم کرے گا جو جوہری مذاکرات میں ایک اہم پیش رفت ہے تاہم ڈیل کا اگلہ مرحلہ سخت ہوسکتا ہے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عرب میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ابتدا میں امریکا کا مطالبہ تھا کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرے، تاہم اب ایران نے اس کے بجائے افزودگی کی سطح میں کمی پر اتفاق کیا ہے۔
اسحاق ڈار نےکہا کہ جوہری پروگرام، پابندیوں اور منجمد اثاثوں پر ورکنگ گروپس سرگرم ہیں، لبنان سے متعلق معاملات بھی مذاکراتی ایجنڈے میں شامل ہیں تاہم ڈیل کا اگلا مرحلہ سخت ہوسکتا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لبنان پراسرائیلی حملوں نےامریکا ایران مذاکرات کو تقریباً سبوتاژکردیا تھا سخت کوششیں کرکےدونوں ملکوں کودوبارہ مذاکراتی میزپرلایاگیا تاہم ڈیل کا اگلا مرحلہ سخت ہوسکتا ہے۔
نائب وزیراعظم کہا کہ مفاہمتی کوششوں کے بعد تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے، مذاکرات حالیہ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے لیے ہو رہے ہیں، یہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں کا دوسرا مرحلہ ہے۔
انہوں کہا کہ ایران پرپابندیاں فوری طورپرختم نہیں کی جارہیں ہیں پابندیوں کےمستقبل کافیصلہ امریکا،ایران باہمی مشاورت سےکریں گے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ 60 روزکےدوران آبنائےہرمزمیں بحری جہازوں پرکوئی فیس عائد نہیں ہوگی جبکہ مفاہمتی یادداشت کوفریقین نےقبول کیا کسی کونیت کےبارےمیں شکوک ظاہرنہیں کرنےچاہئیں فریقین کو30دنوں کےاندربقیہ مذاکرات عمل مکمل کرناہے60 دنوں میں وسیع ترپیشرفت کرتےہوئےحتمی معاہدہ کرناہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نےخطےکےامن کےلیےفریقین کو مذاکرات کی میزپرلانےکی پہل کی اور مسلسل کوششوں سے پہلےفریقین کےدرمیان سیزفائرکرائی گئی، اسلام آبادمیں امریکاایران وفودمیں مذاکرات کے6 راؤنڈزہوئے 47 سال بعد پہلی بارامریکا، ایران کےدرمیان اسلام آبادمیں مذاکرات ہوئے۔
اسحاق ڈارکا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی نائب صدر،ایرانی اسپیکر،وزیرخارجہ عباس عراقچی نےمذاکرات میں نمائندگی کی 28فروری کواسرائیل نےایران پرحملہ کیاجس کی پاکستان نےفوری مذمت کی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا ایران مذاکرات کی ذاتی طورپر رہنمائی کی، سعودیہ، قطر، مصر اور امارات ثالثی کے عمل کو سپورٹ کر رہے ہیں، مذاکرات کا اگلا مرحلہ سخت ہوسکتا ہے مگر حتمی معاہدہ قابل حصول ہے، ڈیل میں کوئی منفی نکتہ نہیں۔














