اسلام آباد: قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے فنانس بل 2026-27 کی شق وار منظوری دے دی۔
اس طرح قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری کا اہم ترین مرحلہ مکمل ہوگیا، کل قومی اسمبلی میں ضمنی گرانٹس منظوری کے لیے پیش ہوں گی جس کے لیے فنانس بل اور مطالبات زر کی طرح ارکان کی ووٹنگ ہوگی۔
فنانس بل کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا اور اس میں تنخواہ دار طبقے، جائیداد کے لین دین، سوشل میڈیا آمدن اور مختلف صنعتی شعبوں کے لیے نئے ٹیکس ڈھانچے متعارف کرائے گئے ہیں۔ نئے نظام کے تحت سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد کو ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے آمدن پر 1 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے تک آمدن پر 6 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس کے ساتھ 11 فیصد اضافی ٹیکس دینا ہوگا، جبکہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے تک آمدن پر 1 لاکھ 16 ہزار روپے کے ساتھ 23 فیصد اضافی ٹیکس لاگو ہوگا۔
اسی طرح 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے تک آمدن پر 3 لاکھ 46 ہزار روپے کے ساتھ 25 فیصد، 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے تک 5 لاکھ 41 ہزار روپے کے ساتھ 29 فیصد، 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے تک 9 لاکھ 76 ہزار روپے کے ساتھ 32 فیصد اور 70 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر 14 لاکھ 24 ہزار روپے کے ساتھ 35 فیصد اضافی ٹیکس عائد ہوگا۔
کاروباری شعبے میں بینکنگ کمپنیوں کی 150 ملین روپے سے زائد آمدن پر 10 فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے جبکہ فرٹیلائزر سیکٹر پر بھی اسی شرح سے ٹیکس لاگو ہوگا۔ دیگر کارپوریٹ کمپنیوں پر 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر 8 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس بھی نافذ کیا گیا ہے۔
جائیداد کے شعبے میں فروخت کنندہ سے مجموعی رقم کا 2.75 فیصد ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جائے گا جبکہ خریدار پر فیئر مارکیٹ ویلیو کا 1.25 فیصد ایڈوانس ٹیکس لاگو ہوگا۔
فنانس بل میں متعدد اداروں اور فلاحی تنظیموں کو ٹیکس چھوٹ بھی دی گئی ہے جن میں پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی، پاکستان ایئر فورس ویلفیئر ادارے، ایس آئی یو ٹی اور دیگر شامل ہیں۔ قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ سمیت بعض اداروں کو بھی خصوصی رعایت دی گئی ہے۔
آٹو سیکٹر میں 2 ہزار سی سی سے 3 ہزار سی سی گاڑیوں پر 86 فیصد ڈیوٹی اور 3 ہزار سی سی سے زائد گاڑیوں پر 92 فیصد ڈیوٹی مقرر کی گئی ہے۔ اس کے برعکس 1800 سی سی گاڑیوں پر مجموعی ٹیکس 156 فیصد سے کم ہو کر 74 فیصد، 1500 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر 91 فیصد سے کم ہو کر 57 فیصد، 1000 سے 1500 سی سی گاڑیوں پر 76 فیصد سے کم ہو کر 52 فیصد اور 850 سی سی گاڑیوں پر 66 فیصد سے کم ہو کر 42 فیصد کر دیا گیا ہے۔
1800 سی سی تک گاڑیوں پر اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے جبکہ بڑی الیکٹرک گاڑیوں پر 30 سے 40 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کی گئی ہے اسی طرح یکم جولائی سے ایک لاکھ 10 ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی ای وی گاڑیوں پر 40 فیصد کسٹم ڈیوٹی لگائی جائے گی۔
قومی اسمبلی اجلاس کل گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
















