وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ وفود کی سطح پر ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات خطے میں امن کی کوششوں اور مستقبل کے تعاون پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو دورہ پاکستان پر خوش آمدید کہتے ہوئے انہیں اپنا بھائی قرار دیا اور دعوت قبول کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کے بعد انہیں اس دورے پر بے حد خوشی ہے۔
انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور کہا کہ مفاہمتی یادداشت اور جنگ بندی سے متعلق اقدامات وقار اور عزت کے ساتھ مکمل کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم کے مطابق یہ سب اقدامات روشن مستقبل کی جانب مشترکہ سفر کی علامت ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کی صلاحیت پر ایران کے اعتماد پر وہ مشکور ہیں جبکہ خطے میں امن کے لیے مشترکہ کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امن مذاکرات میں کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اللہ کے فضل سے ثالثی کی کوششیں کامیاب ہوئیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ متعلقہ ممالک اور سفارتی سطح پر کیے گئے رابطے بشمول نائب وزیراعظم اور ایرانی وزیر خارجہ کا کردار بھی قابلِ تعریف ہے جبکہ قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کو بھی امن کوششوں میں کردار پر سراہا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات قریبی بھائی چارے کی عمدہ مثال ہیں اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کریں گے۔ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے بھی مکمل عزم کا اظہار کیا گیا۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان ایران کے ساتھ مشترکہ ترقی اور مستقبل کے لیے آگے بڑھنے کا خواہاں ہے، اور ایران کی قیادت خصوصاً صدر مسعود پزشکیان کی قیادت میں مزید پیش رفت کی توقع رکھتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق کوئی بات ایجنڈے میں شامل نہیں تھی اور نہ ہی اس پر کوئی گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم کے مطابق بعض عناصر امن عمل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم پاکستان اور ایران کے درمیان تعاون اور اعتماد کا عمل جاری رہے گا۔















