سینیٹر مشاہد حسین نے کیوبا کے عظیم انقلابی رہنما فیڈل کاسترو کی سویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی جہاں انہوں نے کیوبا فوٹو نمائش کا افتتاح کیا اور فیڈل کاسترو “مزاحمت اور وقار کی علامت” قرار دیا۔
اس تقریب کا اہتمام اسلام آباد میں کیوبا کے سفارت خانے نے کیا ۔انہوں نے فیڈل کاسترو کی تاریخی تصاویر پر مشتمل فوٹو نمائش کا افتتاح بھی کیا جس میں دنیا کے مختلف رہنماؤں کے ساتھ ان کی ملاقاتوں کی تصاویر شامل تھیں جن میں نیلسن منڈیلا، صدر پرویز مشرف، پوپ سمیت دیگر عالمی شخصیات شامل تھیں۔

نمائش میں کیوبا کی آزادی کے لیے ان کی مسلح جدوجہد، مختلف خطابات اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ان کی وہ تاریخی تقریر بھی شامل تھی جو 4 گھنٹے اور 29 منٹ پر محیط تھی اور جنرل اسمبلی کی تاریخ کی طویل ترین تقریر سمجھی جاتی ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین نے پاکستانی پارلیمانی وفد کے ہمراہ اپنے دورۂ کیوبا کا ذکر کیا اور کمانڈانتے فیڈل کاسترو کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں “مزاحمت، وقار، خودمختاری اور تیسری دنیا کے ممالک کے درمیان یکجہتی کی علامت” قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ “کمانڈانتے فیڈل کاسترو کی قیادت میں کیوبا نے ثابت کیا کہ کسی ملک کا حجم اس کی طاقت کا پیمانہ نہیں ہوتا کیونکہ 90 لاکھ آبادی پر مشتمل یہ چھوٹا جزیرہ نما ملک ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے صرف 90 میل کے فاصلے پر واقع ہونے کے باوجود انقلاب کو غیر مستحکم کرنے کی تمام کوششوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا رہا جن کا آغاز 1961 میں سی آئی اے کی جانب سے کی جانے والی ‘بے آف پگز’ (Bay of Pigs) یلغار سے ہوا تھا۔
سینیٹر مشاہد حسین نے کیوبا کے بہترین نظامِ صحت کو بھی سراہتے ہوئے اسے “گلوبل ساؤتھ کے لیے ایک مثالی نمونہ” قرار دیا۔ انہوں نے خاص طور پر اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد پاکستان کی مدد میں کیوبا کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا جب کیوبا نے بڑی تعداد میں ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی ماہرین کی ٹیمیں، ہسپتالوں کا سازوسامان اور طبی آلات پاکستان بھیجے جنہیں بعد ازاں کیوبا کی حکومت نے اظہارِ یکجہتی کے طور پر بلا معاوضہ پاکستان کے حوالے کر دیا۔

انہوں نے کیوبا کی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا کہ اس نے پاکستان کے 1,000 میڈیکل گریجویٹس کو وظائف فراہم کیے جو اب مکمل تربیت یافتہ پیشہ ور ڈاکٹر بن کر پاکستان کے مختلف شہروں میں عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا اس بات کی ایک روشن مثال ہے کہ کس طرح ایک ملک اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر اپنی خودمختاری، قومی آزادی اور قومی وقار کا کامیابی سے دفاع کر سکتا ہے۔
سینیٹر مشاہد حسین نے 1959 کے انقلاب سے قبل کے کیوبا کا بھی ذکر کیا جب یہ ملک جرائم، جوا، منی لانڈرنگ اور دیگر سماجی برائیوں کا گڑھ بن چکا تھا۔ انہوں نے معروف امریکی فلم “دی گاڈ فادر” (The Godfather) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فلم میں انقلاب سے قبل کے ہوانا کی اسی صورتحال کی عکاسی کی گئی ہے۔
انہوں نے 1953 میں سیاسی قیدی کے طور پر مقدمے کے دوران فیڈل کاسترو کی تاریخی تقریر کا بھی ذکر کیا جو “تاریخ مجھے بری الذمہ قرار دے گی” (History Will Absolve Me) کے عنوان سے شائع ہوئی تھی۔
سینیٹر مشاہد حسین نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور کیوبا کے تعلقات مستقبل میں مزید فروغ پائیں گے اور مضبوط ہوں گےکیونکہ موجودہ دور میں ساؤتھ-ساؤتھ تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔

















