مظفرآباد: آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں، مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں سمیت 21 میں سے 20 حلقوں پر پولنگ کا عمل جاری ہے جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کیلئے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ کا آغاز صبح 8 بجے ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔ دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کی 9 جبکہ مہاجرین کی 12 نشستوں پر ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔
انتخابات میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلے کا امکان ہے۔ مظفرآباد ڈویژن کی نشستوں پر 208 جبکہ مہاجرین کی نشستوں پر 143 امیدوار میدان میں ہیں۔
حکام کے مطابق دوسرے مرحلے میں 12 لاکھ سے زائد ووٹرز ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں جن کیلئے 1483 پولنگ اسٹیشنز اور 2219 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن نے تین حلقوں ایل اے 28، ایل اے 29 اور ایل اے 31 کو انتہائی حساس قرار دیا ہے۔
سیکیورٹی پلان کے تحت انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر 8، حساس پولنگ اسٹیشنز پر 6 جبکہ نارمل پولنگ اسٹیشنز پر 4 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
دوسرے مرحلے کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی سمیت 25 سیاسی جماعتیں اور آزاد امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ ضلع مظفرآباد کی 5 نشستوں کیلئے 4 لاکھ 80 ہزار 219، ضلع نیلم کی 2 نشستوں کیلئے ایک لاکھ 51 ہزار 911 جبکہ جہلم ویلی کی 2 نشستوں کیلئے ایک لاکھ 77 ہزار 500 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر غلام مصطفیٰ مغل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا استعمال یقینی بنائیں اور قومی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے بہتر قیادت کے انتخاب میں اپنا کردار ادا کریں۔ شفاف، پرامن اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کیلئے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
ایل اے 27 مظفرآباد ون میں پولنگ ملتوی
پاکستان پیپلزپارٹی آزاد جموں و کشمیر کے الیکشن سیل کے انچارج سردار عبدالشکور نے کہا ہے کہ پورے حلقہ انتخاب کے تمام 196 پولنگ اسٹیشنز پر بیک وقت پولنگ ملتوی کرنے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔
انچارج الیکشن سیل نے الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ ایل اے-27 مظفرآباد ون کی پولنگ ملتوی کرنے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے حلقہ انتخاب کے تمام 196 پولنگ اسٹیشنز کے باہر نہ بیک وقت درخت گر سکتے ہیں، نہ ہر مقام پر لینڈ سلائیڈنگ ہو سکتی ہے اور نہ ہی پورے حلقے کو یکساں طور پر ناقابل رسائی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس بنیاد پر پورے حلقے کے عوام کو اچانک حق رائے دہی سے محروم کر دینا کسی طور قابل فہم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عملہ اور انتخابی سامان پولنگ کے روز نہیں بلکہ ایک رات پہلے ہی متعلقہ پولنگ اسٹیشنز کی جانب روانہ ہونا شروع ہو جاتا ہے اگر موسمی حالات واقعی اس قدر خراب تھے کہ پولنگ کا انعقاد ممکن نہیں تھا تو الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور عوام کو بروقت اعتماد میں کیوں نہیں لیا اور پیشگی اطلاع کیوں جاری نہیں کی؟
سردار عبدالشکور نے کہا کہ اگر چند مخصوص علاقوں میں سڑکیں بند تھیں تو ان پولنگ اسٹیشنز کے حوالے سے الگ فیصلہ کیا جا سکتا تھا لیکن پورے حلقے کے تمام 196 پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ ملتوی کرنا ایک غیر معمولی اور ناقابل فہم فیصلہ ہے جس سے عوام میں شدید شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن اس فیصلے کی مکمل تفصیلات، متاثرہ سڑکوں، متاثرہ پولنگ اسٹیشنز اور انتظامی اقدامات کی مکمل رپورٹ فوری طور پر عوام کے سامنے لائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ پورے حلقے میں پولنگ ملتوی کرنے کی ناگزیر ضرورت کیوں پیش آئی۔ ووٹ کا حق عوام کا بنیادی جمہوری حق ہے اور اسے غیر معمولی اور ناقابل تردید وجوہات کے بغیر معطل نہیں کیا جا سکتا۔
ملک بھر میں کشمیری مہاجریں کی 12 نشستوں پر بھی پولنگ
ملک بھر میں کشمیری مہاجریں کی 12 نشستوں پر بھی پولنگ جاری ہے۔ گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، پسرور، نارووال، قصور، علی پور چٹھہ، منڈی بہاؤ الدین، فیروزوالا میں بھی ووٹرز حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں جبکہ ملتان، بہاولنگر اور لاڑکانہ میں بھی انتخابی میدان سج گیا ہے۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق آزاد کشمیر انتخابات کے تیسرے مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی جس کیلئے بھی انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔















