20 اگست کی صبح پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی کے تھانہ سول لائنز کے علاقے لال کرتی میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جس میں 45 سالہ خاتون کی لاش واش روم سے برآمد ہوئی۔
مقتولہ حنا جاوید کے بھائی فہد جاوید ملک کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق، حنا جاوید کی شادی نومبر 2025 میں ہوئی تھی۔
فہد جاوید نے بتایا کہ 20 اگست 2026 کو صبح تقریباً 6:05 بجے انھیں اپنے بہنوئی کے گھر سے ایمرجنسی کی اطلاع ملی۔ وہ تقریباً 7:23 پر جائے وقوعہ پر پہنچے تو دیکھا کہ اُن کی بہن کمرے کے باتھ روم میں مردہ حالت میں پڑی تھیں۔
’اُن کے دونوں ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے، منھ پر کپڑا تھا، گلے میں سفید بجلی کی تار بندھی ہوئی تھی جو اوپر شاور کے ساتھ باندھی گئی تھی۔ منھ سے خون اور جھاگ نکل رہا تھی جبکہ فرش پر بھی خون موجود تھا۔‘
ایف آئی آر میں فہد جاوید نے الزام عائد کیا ہے کہ اُن کی بہن کو اُن کے شوہر نے اپنے ملازم اور والد کے ساتھ مل کر انتہائی بے دردی سے قتل کیا ہے اور ’انھیں شبہ ہے کہ مقتولہ کو پہلے زہریلی چیز دی گئی اور پھر اذیت دے کر قتل کیا گیا۔‘
فہد جاوید نے الزام عائد کیا کہ ان کے بہنوئی ’آئے روز مقتولہ کو تشدد کا نشانہ بناتے تھے اور اس سے قبل ملزم کی پہلی اہلیہ نے بھی تشدد کی وجہ سے تنگ آ کر طلاق لے لی تھی۔‘
مقتولہ حنا جاوید کی کزن صباح ملک اور بھابھی نے بول نیوز سے خصوصی گفتگو میں اہم انکشافات کیے۔
حنا جاوید کی کزن صباح ملک نے بتایا کہ حنا جاوید ایک خودمختار، پُراعتماد، کیریئر اورینٹڈ اور زندگی سے بھرپور خاتون تھیں، وہ گزشتہ 15 برس سے قومی اسمبلی میں خدمات انجام دے رہی تھیں اور اپنے کیریئر کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ تھیں۔ ان کے کیریئر میں حال ہی میں ترقی ہوئی تھی، چند روز قبل فون پر خوشخبری بھی خاندان سے شیئر کی تھی۔
صباح ملک کا کہنا تھا کہ حنا جاوید انتہائی نرم دل، محبت کرنے والی اور خاندان کو جوڑ کر رکھنے والی شخصیت تھیں وہ اپنے والدین کی دیکھ بھال کرتی تھیں اور روزانہ بھابھی کے ہمراہ ان سے ملنے جاتی تھیں شادی نومبر 2025 میں ہوئی، شادی کے بعد حنا پہلے کی نسبت خاموش اور اپنے اندر سمٹ گئی تھیں۔
صباح ملک نے بول سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شادی کے بعد حنا جاوید کی شخصیت میں نمایاں تبدیلی آئی، خاندان نے بھی اس تبدیلی کو محسوس کیا، اہلخانہ بار بار حنا سے پوچھتے کہ کیا وہ خوش ہیں، وہ جواب دینے کے بجائے بات تبدیل کر دیتی تھیں۔
دوسری جانب حنا جاوید کی بھابھی کا کہنا تھا کہ حنا گزشتہ 9 سے 10 ماہ سے روزانہ میرے ساتھ والدین کے گھر آتی تھیں، اس کے رویے سے کبھی اندازہ نہیں ہوا کہ وہ کسی پریشانی میں ہیں۔
بھابھی کے مطابق حنا سے شادی شدہ زندگی کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ خاموش ہوجاتیں یا بات تبدیل کردیتی تھیں، ان کی شادی ارینج میرج تھی، شادی کے بعد حنا نے خاندان کے سامنے کسی بڑی پریشانی کا اظہار نہیں کیا۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ حنا جاوید کے قتل کا مقدمہ درج کر کے ان کے شوہر اور گھریلو ملازم گرفتار کو گرفتارکر لیا گیا تاہم سسر تاحال گرفتار نہیں ہوئے۔
اہلخانہ نے مطالبہ کیا حنا جاوید کے سسر کو مزید تاخیر کے بغیر گرفتار کرکے کردار کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔
اہلخانہ کا کہنا ہے کہ حنا جاوید ایک بیٹی، بہن اور دوست تھیں، ان کی پوری زندگی ان کے سامنے تھی، ہم الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے کہ ہمارے خاندان نے کیا کھویا ہے، حنا جاوید قتل کیس کی تحقیقات کسی اثر و رسوخ، دباؤ یا تاخیر کے بغیر مکمل شفافیت سے کی جائیں پاکستان کے قانونی اور عدالتی نظام پر مکمل اعتماد ہے، انصاف ضرور ہوگا خواتین پر تشدد ایک جرم ہے، اسے جرم ہی سمجھ کر اسی کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔
خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے راولپنڈی میں حنا جاوید کے مبینہ قتل پر اظہارافسوس کیا ہے۔
فیس بک پر پوسٹ کرتے ہوئے آصفہ بھٹو زرداری نے سوگوار خاندان سے تعزیت اورہمدردی کااظہار کیا،انہوں نے حنا جاوید کے مبینہ قتل پر اظہارتشویش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ المناک واقعہ کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔
خاتول اول کا کہنا تھا کہ ذمہ دار افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچا کر مثال قائم کی جائے۔خواتین کے تحفظ اور جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیرہیں۔














