Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مقتولہ حنا جاوید کی کزن اور بھابھی نے بول نیوز سے خصوصی گفتگو میں اہم انکشافات کر دیئے

اگر آپ کا ایمان اور یقین مضبوط ہو تو آپ کو انصاف ضرور ملتا ہے

مقتولہ حنا جاوید کی کزن صبا ملک نے بول نیوز سے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ سب سے پہلے تو لوگوں کی جانب سے جس طرح حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے وہ ہمارے لیے بہت حوصلہ افزا ہے۔ ایک خاندان کی حیثیت سے ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ یہ ردِعمل ہمارے لیے بہت زیادہ اور انتہائی قابلِ قدر رہا ہے۔

صبا ملک بہت سے لوگوں نے اس کیس کو ذاتی طور پر محسوس کیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ حنا جاوید کو اپنے درمیان زندہ رکھیں گے اور ہم سب اس انصاف کی جدوجہد میں ایک ساتھ ہیں۔

انہوں نے کہا حنا جاوید ایک ایسی خاتون تھیں جو اپنے اہداف کے حوالے سے بہت واضح تھیں، محنتی اور پُرعزم تھیں۔ پاکستان میں اب یہ چیز عام ہوتی جا رہی ہے کہ خواتین خودمختار ہوں، اپنے لیے کمائیں اور اپنے کیریئر میں آگے بڑھیں۔

صبا ملک نے بتایا کہ میرا خیال ہے کہ ہمیں اپنے لڑکوں اور مردوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بیوی کے حوالے سے روایتی تصور اب تبدیل ہو رہا ہے۔ خواتین بھی آج معاشرے میں اپنا مقام بنا رہی ہیں۔ میں اس مخصوص شخص کے بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتی، لیکن بحیثیت صحافی ہم ایسی بہت سی مثالیں اور خبریں دیکھتے ہیں اور ان تمام مسائل کا سامنا کرنے والی خواتین کے حالات سے واقف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں جس طرح لوگوں نے اس واقعے پر آواز اٹھائی ہے، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ زیادہ تر پاکستانی، خصوصاً وہ لوگ جو کھل کر بات کر رہے ہیں، اب تھک چکے ہیں۔

ہم روزانہ یہ خبریں پڑھتے ہیں کہ خواتین اپنی جانیں کھو رہی ہیں۔ چاہے وہ شوہر کا گھر ہو، والدین کا گھر ہو یا کسی اور کا گھر، آخر خواتین کی جانیں کیوں لی جا رہی ہیں؟ انہیں قتل کیوں کیا جا رہا ہے؟

صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اس ملک میں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب ہمیں کسی خاتون کے ساتھ اس طرح کے واقعے کی خبر نہ ملے۔ اور میں اس وقت آپ سے بات کر رہی ہوں تو مجھے خود یہ سوچ کر صدمہ ہو رہا ہے کہ میں اپنے ہی خاندان کی ایک فرد کے بارے میں بات کر رہی ہوں، جس کے ساتھ یہ سب کچھ ہوا۔

میرا خیال ہے کہ پاکستان اس صورتحال سے تنگ آ چکا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ سب بند ہو تو ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ یہ واقعات بار بار کیوں پیش آ رہے ہیں اور انہیں روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

بدقسمتی سے ایسے مواقع پر ہمیں بات کرنا ہوگی اور اس مسئلے کو اجاگر کرنا ہوگا۔ خواتین کو صرف قتل ہی نہیں کیا جا رہا، بلکہ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، انہیں خاموش کرایا جا رہا ہے۔ ہر روز کسی نہ کسی شکل میں خواتین کے خلاف زیادتی سامنے آتی ہے۔

صبا ملک کے مطابق حنا جاوید ایک انتہائی مضبوط خاتون تھیں۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ بھی کھڑی رہیں اور اپنے لیے بھی مضبوطی سے کھڑی ہوئیں۔ بہت سی خواتین ایسی ہیں جنہیں یہ حق حاصل نہیں ہو پاتا اور وہ بھی اپنی زندگیاں کھو دیتی ہیں۔ ہمیں ان تمام خواتین کے لیے بھی اتنا ہی غصہ اور دکھ محسوس ہوتا ہے۔

مقتولہ حنا جاوید کی بھابی مصباح صاحبہ نے کہا کہ میں نے انہیں ہمیشہ ایک مطمئن انسان پایا۔ وہ بہت اچھی انسان تھیں۔ جب بھی وہ آتی تھیں، انہیں اپنی والدہ کی بہت فکر ہوتی تھی۔ وہ ہم سب سے پوچھتی تھیں کہ امی کیسی ہیں، کیا امی میرا پوچھتی ہیں؟

ہم انہیں بتاتے تھے کہ جی، وہ آپ کا ذکر کرتی ہیں اور آپ کا نام لیتی ہیں۔ وہ ہر وقت اپنی والدہ کے لیے یہاں آتی تھیں، ان کا خیال رکھتی تھیں، ہم سے ان کے بارے میں پوچھتی تھیں اور ہمارے بارے میں بھی دریافت کرتی تھیں انہیں ہر وقت گھر کی فکر رہتی تھی۔ وہ بہت پُرسکون انسان تھیں۔

مصباح صاحبہ کا کہنا تھا کہ جو خواتین ہوتی ہیں، ہم لوگ بہت زیادہ سمجھوتہ کرنے والی اور معاملات کو سنبھالنے والی ہوتی ہیں۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ شادی کے بعد اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ خوبصورت بنائیں۔ حنا جاوید بھی یہی چاہتی تھیں۔

انہوں نے بھی اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی پوری کوشش کی۔ ہر لڑکی چاہتی ہے کہ اس کا خاندان، اس کے اردگرد کے لوگ اور اس کے رشتے محبت اور اچھے طریقے سے چلیں۔ حنا جاوید بھی سب کے ساتھ محبت سے رہتی تھیں۔

بول نیوز کے ایک سوال کے جواب میں مقتولہ حنا جاوید کی بھابھی نے بتایا کہ جب کوئی شخص کسی رشتے میں داخل ہوتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکی ملازمت کرتی ہے۔ شادی سے پہلے حنا جاوید نے اس گھر کو دیکھا تھا۔ گھر کے معاملات میں اس کی شمولیت تھی، وہ ہر چیز میں شامل ہوتی تھیں اور بہت سے کام خود کرتی تھیں۔ ان کے شوہر کو بھی اس سب کے بارے میں معلوم تھا۔

قانونی عمل اور حکام کی جانب سے اب تک کیے گئے اقدامات پر مقتولہ حنا جاوید کی بھابھی کا کہنا تھا کہ ان شاء اللہ ہمیں ضرور انصاف ملے گا۔ ہمارا یقین ہے کہ اگر آپ کا ایمان اور یقین مضبوط ہو تو آپ کو انصاف ضرور ملتا ہے۔

متعلقہ خبریں