دنیا بھر کے کروڑوں فٹ بال شائقین جس فیفا ورلڈ کپ ٹرافی کو کھیل کا سب سے بڑا اعزاز سمجھتے ہیں اس کے بارے میں کئی ایسے دلچسپ حقائق موجود ہیں جن سے اکثر لوگ آج بھی لاعلم ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز میں اب چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں اور ایک بار پھر دنیا کی بہترین ٹیمیں اس سنہری ٹرافی کو حاصل کرنے کے لیے میدان میں اتریں گی۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ جس ٹرافی کو اٹھانے کا خواب ہر کھلاڑی دیکھتا ہے وہ دراصل فاتح ٹیم کے پاس ہمیشہ کے لیے نہیں رہتی؟
موجودہ فیفا ورلڈ کپ ٹرافی تقریباً 37 سینٹی میٹر بلند ہے اس کا وزن لگ بھگ 6 کلوگرام ہے اور اسے 18 قیراط سونے سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے ڈیزائن میں دو انسانی شکلوں کو زمین کو بلند کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو عالمی سطح پر فٹ بال کی مقبولیت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
The FIFA World Cup Trophy is made of 18-carat gold and weighs over 6 kilograms.
How much do you think it’s worth?
— Golden Ball (@GoldenBallonPF) June 6, 2026
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ٹرافی مکمل طور پر ٹھوس سونے کی نہیں بلکہ اندر سے کھوکھلی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اسے خالص سونے سے بنایا جاتا تو اس کا وزن اتنا زیادہ ہوتا کہ اسے آسانی سے اٹھانا ممکن نہ رہتا۔
ٹرافی کے نچلے حصے پر سبز رنگ کے قیمتی پتھر مالاکائٹ کی تہیں لگائی گئی ہیں جو اس کے منفرد حسن اور شاہانہ انداز کو مزید نمایاں کرتی ہیں۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ صرف اس میں استعمال ہونے والے سونے اور دیگر مواد کی موجودہ مالیت تقریباً ڈھائی لاکھ امریکی ڈالر بنتی ہے، تاہم اس کی تاریخی اور علامتی اہمیت کو مدنظر رکھا جائے تو نیلامی کی صورت میں اس کی قیمت کروڑوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
فیفا ورلڈ کپ کی موجودہ ٹرافی 1974 میں پہلی بار متعارف کرائی گئی تھی اور اطالوی مجسمہ ساز سلویو گازانیگا نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس سے پہلے جولس ریمے ٹرافی استعمال کی جاتی تھی جو 1970 میں تیسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کے بعد برازیل کو مستقل طور پر دے دی گئی تھی۔
سب سے حیران کن حقیقت یہ ہے کہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کو اصل ٹرافی اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ فائنل تقریب کے بعد اصل ٹرافی واپس فیفا کے محفوظ ذخیرے میں منتقل کر دی جاتی ہے، جبکہ فاتح ٹیم کو سونے کی تہہ چڑھی ہوئی ایک خصوصی نقل دی جاتی ہے جسے وہ اپنے ملک لے جا سکتی ہے۔
اسی وجہ سے اصل فیفا ورلڈ کپ ٹرافی کو دنیا کی محفوظ ترین اور قیمتی ترین کھیلوں کی یادگاروں میں شمار کیا جاتا ہے، اور شاید یہی راز اس کی کشش کو مزید بڑھا دیتا ہے۔


















