امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے خود ملاقات کی درخواست کی دونوں ملکوں میں مثبت مذاکرات ہورہے ہیں اچھی پیشرفت کی امید ہے امریکا کمزورپوزیشن میں ہوتا تو ایران مذاکرات کی خواہش نہ کرتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران کی فوجی صلاحیت تقریباً مکمل تباہ کردی کارروائی نہ کرتے توایران بات چیت پربھی آمادہ نہ ہوتا۔
امریکی صدر نے کہا کہ یمن کی لڑائی میں امریکا شامل نہیں، سعودی عرب سے رابطے میں ہیں ضرورت پڑی تو حوثیوں کے خلاف کارروائی سے گریزنہیں کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کہا کہ سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پرلانے کے لیے معاہدے پربات نہیں ہوئی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ترکیہ امریکا کاعظیم اتحادی ہے، طیب اردوان میرے دوست ہیں ترکیہ کولڑاکا طیاروں کی فروخت کافیصلہ واشنگٹن کرے گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اسرائیل یہ طے نہیں کرے گاکہ امریکاکس ملک کوکیا فروخت کرے۔




















