Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ناکارہ لیتھیم بیٹریوں کو دوبارہ کار آمد بنانے کا طریقہ دریافت

بیٹریوں کے دوبارہ قابل استعمال بنانے کے لیے ایک خاص کیمیکل محلول استعمال کیا جاتا ہے

کارنل یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسا الیکٹرو کیمیکل محلول تیار کیا ہے جو پرانی اور خراب ہو چکی لیتھیم آئن بیٹریوں کو تقریباً 100 فیصد تک دوبارہ کارآمد بناسکتا ہے۔

عام طور پر جب بیٹریاں کمزور ہو جاتی ہیں تو انہیں توڑ کر ان کا مواد الگ کیا جاتا ہے جو ایک مہنگا اور توانائی طلب عمل ہے تاہم اب اس نئے طریقہ کار کی بدولت بیٹری کو توڑے بغیر اس کے اندر موجود الیکٹروڈز کو دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جاسکتا ہے۔

ان بیٹریوں کے دوبارہ قابل استعمال بنانے کے لیے ایک خاص کیمیکل محلول استعمال کیا جاتا ہے جو بیٹری کے اندر موجود خراب تہہ کو ختم کر کے  اس کے پرانے حصوں کو دوبارہ فعال بنا دیتا ہے۔

محققین کے مطابق اس طریقے سے بیٹری اپنی تقریباً 95 فیصد صلاحیت واپس لوٹ آتی ہے اور پہلے سے بہتر کارکردگی بھی دکھا سکتی ہے۔ اس طرح ری سائیکلنگ کی لاگت تقریباً 56 فیصد تک کم ہو جاتی ہے اور ماحول پر بھی کم نقصان ہوتا ہے۔

بیٹری کے اندر وقت کے ساتھ ایک تہہ بن جاتی ہے جسے سالڈ الیکٹرولائٹ انٹرفیز کہا جاتا ہے ابتدا میں یہ تہہ ضروری ہوتی ہے تاہم وقت کے ساتھ یہ موٹی ہو کر بیٹری میں مزاحمت بڑھا دیتی ہے اور اس کی طاقت کم کر دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ اکثر بیٹریاں مکمل طور پر ضائع کر دی جاتی ہیں حالانکہ ان کا بڑا حصہ ابھی بھی صحیح ہوتا ہے۔

روایتی ری سائیکلنگ میں بیٹری کو توڑکر چھوٹے ٹکڑوں میں پیسا جاتا ہے اور پھر اس سے قیمتی دھاتیں نکالی جاتی ہیں پھر۔ اس سے دوبارہ نئی بیٹریاں تیار کی جاتی ہیں تاہم نیا طریقہ اس کے برعکس کام کرتا ہے اس میں بیٹری کو کھولا جاتا ہے مگر اسے توڑا نہیں جاتا۔ اس کے الیکٹروڈز کو ایک خاص محلول میں رکھا جاتا ہے جو خراب تہہ کو تحلیل کر دیتا ہے، جبکہ اندر موجود بنیادی ساخت محفوظ رہتی ہے۔ اس طرح الیکٹروڈ دوبارہ نئی بیٹری میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ اس طریقے کو ڈائریکٹ الیکٹروڈ ٹو الیکٹروڈ ری جنریشن کہا جاتا ہے۔

محققین کے مطابق اس طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے دوبارہ بھی اسی عمل سے بیٹری کی طاقت بحال کی جا سکتی ہے اور دوسری بار بھی اس کی تقریباً 90 فیصد صلاحیت باقی رہتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ طریقہ صرف عام بیٹریوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بڑی صنعتی بیٹریوں اور الیکٹرک گاڑیوں میں استعمال ہونے والی بیٹریوں کے لیے بھی بہت اہم ثابت ہو سکتا ہے۔