دنیا بھر میں 6 جی موبائل مواصلاتی نظام پر تحقیق جاری ہے جس کے تحت مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی صرف تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرنے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ دیوار کے دوسری جانب موجود افراد، ان کی نقل و حرکت، سانس لینے کے عمل اور دل کی دھڑکن کا بھی اندازہ لگاسکے گی۔
ماہرین 6 جی کے لیے ایک ایسے نظام پر کام کررہے ہیں جس میں مواصلاتی سگنلز کو اردگرد کے ماحول کو محسوس کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ ان سگنلز کے ذریعے لوگوں، گاڑیوں، دیواروں اور دیگر اشیا سے واپس آنے والی لہروں کا تجزیہ کرکے کسی شے یا شخص کے مقام، فاصلے، رفتار اور حرکت کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکیں گی۔
تحقیقی اداروں کے مطابق 6 جی سے متعلق ابتدائی تجربات میں سانس لینے کے دوران سینے کی معمولی حرکت، دل کی دھڑکن اور بعض صورتوں میں دیوار کے پیچھے موجود افراد کا سراغ لگانے کی صلاحیت کا بھی مظاہرہ کیا گیا ہے تاہم یہ تمام خصوصیات ابھی تجرباتی مرحلے میں ہیں اور انہیں 6 جی کا حتمی حصہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں 6 جی کے یہ فیچرز عملی شکل اختیار کرلیتے ہیں تو اسپتالوں میں مریضوں کی نگرانی، قدرتی آفات کے دوران ملبے تلے دبے افراد کی تلاش، بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال، صنعتی مراکز، ٹریفک نظام اور ماحول کی نگرانی سمیت مختلف شعبوں میں اس سے فائدہ اٹھایا جاسکے گا۔
دوسری جانب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 6 جی کی یہ صلاحیتیں رازداری کے حوالے سے بھی نئے خدشات پیدا کرسکتی ہیں کیونکہ اس کے ذریعے بغیر کیمرے یا جسم پر کسی آلے کے افراد کی موجودگی اور نقل و حرکت کا اندازہ لگایا جاسکے گا۔
اسی لیے ماہرین ابھی سے اس ٹیکنالوجی کے لیے سخت حفاظتی اور رازداری کے اصول مرتب کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق 6 جی موبائل نظام ابھی ترقی کے مراحل میں ہے اور اس کے عام استعمال میں کئی سال باقی ہیں، اس لیے دیوار کے پار افراد کا سراغ لگانے یا دل کی دھڑکن معلوم کرنے جیسی صلاحیتوں کو فی الحال مستقبل کی ممکنہ خصوصیات ہی سمجھا جارہا ہے۔



















