سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کی ایک خفیہ داخلی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ کمپنی نے 2021 میں لاکھوں صارفین کے لیے ایک اہم حفاظتی فیچر جان بوجھ کر فعال نہیں کیا تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ اس کے بغیر صارفین پلیٹ فارم پر زیادہ وقت گزارتے ہیں یا نہیں۔
بلوم برگ کو موصول ہونے والی لیک رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک نے منفی اور ذہنی دباؤ پیدا کرنے والے مواد کی مسلسل نمائش کو محدود کرنے کے لیے ایک نیا حفاظتی نظام تیار کیا تھا تاہم امریکا میں تقریباً 10 فیصد صارفین یعنی لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ افراد کو جان بوجھ کر پرانے الگورتھم پر رکھا گیا تاکہ دونوں گروپوں کے استعمال اور پلیٹ فارم پر گزارے گئے وقت کا موازنہ کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق اس تجرباتی گروپ میں 16 سالہ امریکی نوجوان چیس ناسکا بھی شامل تھا جس کی وفات سے قبل اس کی ٹک ٹاک فیڈ میں ڈپریشن، تنہائی اور خودکشی سے متعلق ہزاروں ویڈیوز موجود تھیں۔ فروری 2022 میں اس نوجوان نے اپنی جان لے لی۔
داخلی تحقیقات میں ٹک ٹاک کی الگورتھم اور سیفٹی ٹیموں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ چیس ناسکا کے اکاؤنٹ پر حفاظتی فیچر کا غیر فعال ہونا کسی تکنیکی خرابی کا نتیجہ نہیں بلکہ کمپنی کے تجرباتی منصوبے کا حصہ تھا۔
لیک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس انکشاف کے بعد امریکی قانون سازوں کو ٹک ٹاک کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ داخلی تحقیقات مکمل ہونے کے چند ہفتوں بعد کمپنی کے چیف ایگزیکٹو شو زی چو نے کانگریس میں پیش ہو کر کہا تھا کہ نوجوان صارفین کی حفاظت اور شفافیت کمپنی کی اولین ترجیح ہے۔
رپورٹ کے مطابق کانگریس کے تحریری سوالات کے جواب میں بھی کمپنی نے یہ ظاہر نہیں کیا تھا کہ لاکھوں صارفین ایک ایسے تجربے کا حصہ تھے جس میں حفاظتی اقدامات اور صارفین کی مصروفیت کے درمیان توازن کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔
دوسری جانب ٹک ٹاک نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ صارفین کی حفاظت اس کی اولین ترجیح ہے اور کمپنی اعتماد و سلامتی کے اقدامات پر مسلسل سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق رواں سال خودکشی سے متعلق متعدد ذاتی نقصان کے مقدمات بھی طے کیے جا چکے ہیں۔




















