Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی قبر کشائی ہوگی یا نہیں؟ کشمکش برقرار

میر رضا علی کی قبر کشائی کے لیے مجسٹریٹ اور میڈیکل بورڈ کے اراکین قبرستان پہنچ گئے

کراچی: نوجوان تاجر میر رضا علی خان کی ہلاکت کے معاملے میں قبر کشائی کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ مجسٹریٹ اور میڈیکل بورڈ کے اراکین قبرستان پہنچ گئے تاہم قبر کشائی ہوگی یا نہیں، اس حوالے سے کشمکش برقرار ہے۔

قبرستان میں تمام غیر متعلقہ افراد کو قنات سے باہر نکال دیا گیا ہے جبکہ پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

قبر کشائی پر اہلخانہ کے شدید تحفظات

دوسری جانب اہلخانہ نے میر رضا علی کی قبر کشائی کے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے نئے میڈیکل بورڈ کو مسترد کر دیا ہے۔

میر رضا کے والد کا کہنا ہے کہ وہ قبر کشائی کی اجازت نہیں دیں گے، پرانا میڈیکل بورڈ آئے تو اسے اجازت دیں گے، رات کے اندھیرے میں تبدیل ہونے والے میڈیکل بورڈ کو اجازت نہیں دے سکتے۔

اس موقع پر والد کے ہمراہ سپورٹرز کی بڑی تعداد بھی قبرستان پہنچنا شروع ہوگئی۔

میر رضا علی خان کیس میں نئی پیش رفت کے تحت ورثا نے نئے میڈیکل بورڈ پر شدید اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے اور نئے بورڈ سے قبر کشائی کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

قانونی ورثا نے پولیس سرجن کو باقاعدہ قانونی نوٹس ارسال کرتے ہوئے عدالتی حکم کے مطابق اصل میڈیکل بورڈ سے قبر کشائی کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ورثا نے ڈی جی ہیلتھ حیدرآباد کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نیا میڈیکل بورڈ عدالتی حکم کے منافی تشکیل دیا گیا ہے۔

 انہوں نے شواہد سے چھیڑ چھاڑ کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر قانونی بورڈ کے ذریعے قبر کشائی کی گئی تو قانونی کارروائی کریں گے۔ قانونی نوٹس کی کاپی سیکریٹری ہیلتھ سندھ کو بھی ارسال کر دی گئی ہے۔

’قتل میں ملوث افراد کے اثرورسوخ کے باعث راتوں رات میڈیکل بورڈ تبدیل کیا گیا‘

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیس کے وکیل جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کیس میں نئی تحقیقاتی ٹیم کے نوٹیفکیشن پر تحفظات ہیں۔ رات کی تاریکی میں نئی ٹیم کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ آٹھ روز گزرنے کے باوجود تفتیشی افسر نے مدعی کا بیان ریکارڈ نہیں کیا جبکہ آٹھ دن تک گولی کا خول نہیں ملا، عدالتی حکم کے بعد فوری برآمدگی سوالیہ نشان ہے۔

جبران ناصر نے مطالبہ کیا کہ پہلے اور نئے میڈیکل بورڈ کے ارکان میں فرق واضح کیا جائے، پہلا نوٹیفکیشن واپس لیے بغیر نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ حیدرآباد سے جاری خط میں سیکریٹری صحت کے کس حکم کا حوالہ دیا گیا، پستول کے بغیر خول کی برآمدگی تفتیش میں کیا اہمیت رکھتی ہے؟

وکیل نے مزید کہا کہ ہمیں کوئی متبادل یا پلان سی قبول نہیں، ہم صرف پہلے سے قائم آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ کو تسلیم کرتے ہیں۔ قبر کشائی سے قبل آئی جی سندھ کا کیس حل کے قریب ہونے کا بیان بھی سوالیہ نشان ہے۔ قتل میں ملوث افراد کے اثرورسوخ کے باعث راتوں رات میڈیکل بورڈ تبدیل کیا گیا۔

متعلقہ خبریں