Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بچوں کی حفاظت میں ناکامی، امریکی عدالت نے میٹا پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا

میٹا، جو فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور تھریڈز کی مالک ہے

امریکی عدالت نے سوشل میڈیا کمپنی میٹا کو بچوں کی آن لائن حفاظت میں ناکامی پر مزید 567 ملین ڈالر جرمانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا جو کمپنی کے خلاف چائلڈ سیفٹی کے معاملے میں اب تک کا سب سے بڑا جرمانہ قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی ریاست نیو میکسیکو کے جج برائن بیڈشیڈ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ میٹا کے پلیٹ فارمز بچوں کے لیے خطرات کا باعث بنے اور کمپنی نے عوام کو ان خطرات سے مناسب طور پر آگاہ نہیں کیا۔

عدالت نے میٹا کو عوامی نقصان کا باعث بننے والی کمپنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جرمانے کی رقم مستقبل میں بچوں کو لاحق آن لائن نقصانات کو کم کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔

یہ جرمانہ پہلے عائد کیے گئے 375 ملین ڈالر کے جرمانے کے علاوہ ہے جس کے بعد میٹا پر مجموعی جرمانہ 942 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

جج نے میٹا کا موازنہ ایک ایسی فیکٹری سے کیا جہاں اشتہارات اور مواد اس کی مصنوعات ہیں جبکہ بچوں کو پہنچنے والا نفسیاتی نقصان اور جنسی استحصال آلودگی کے مترادف ہے جسے روکنا ضروری ہے۔

میٹا کے ترجمان نے عدالتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی اس کے خلاف اپیل کرے گی۔ ترجمان کے مطابق میٹا اپنے پلیٹ فارمز کو محفوظ بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے اور بچوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کا دفاع جاری رکھے گی۔

میٹا، جو فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور تھریڈز کی مالک ہے کو امریکا میں بچوں کی حفاظت سے متعلق ہزاروں مقدمات کا سامنا ہے۔

اس سے قبل لاس اینجلس کی ایک عدالت بھی قرار دے چکی ہے کہ کمپنی کو نوجوانوں کے لیے پلیٹ فارمز کو زیادہ نشہ آور بنانے کے الزامات پر ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جرمانے کی رقم میٹا کے لیے مالی طور پر بہت بڑی نہیں کیونکہ کمپنی نے حالیہ سہ ماہی میں 61 ارب ڈالر آمدنی ظاہر کی ہے تاہم یہ فیصلہ دنیا بھر میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے احتساب کے بڑھتے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں