پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ تاریخی دفاعی معاہدہ طے پا گیا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر صدر ترکیہ رجب طیب اردوان اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا جہاں سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے دونوں رہنماؤں کا استقبال کیا۔
ترجمان کے مطابق مکہ مکرمہ کے الصفاء محل میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے سربراہان کا مشترکہ دفاعی اجلاس منعقد ہوا، جس میں تینوں ممالک کے درمیان دوطرفہ و سہ فریقی تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
🔈 PR No. 2️⃣0️⃣4️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Makkah Al-Mukarramah Summit for Joint Defence
🔗⬇️ pic.twitter.com/mIzASADmau
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 7, 2026
اجلاس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے تاریخی، برادرانہ اور اسلامی یکجہتی پر مبنی تعلقات کو مزید فروغ دینے اور مشترکہ اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے دفاعی تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جسے تینوں ممالک کے اجتماعی دفاع، سلامتی اور اسٹریٹجک شراکت داری میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
بیان کے مطابق معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانا، علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینا اور محفوظ و خوشحال مستقبل کے لیے مشترکہ وژن کو عملی شکل دینا ہے۔
معاہدے کے تحت کسی بھی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا جبکہ کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور دفاعی تعاون کے تمام شعبوں میں اشتراک بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ تینوں ممالک کے تاریخی تعلقات اور اسٹریٹجک تعاون کی بنیاد پر طے پایا ہے اور اس سے خطے میں دفاعی شراکت داری کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
اجلاس کے اختتام پر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے خطے اور دنیا میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ بھی کیا۔

















